’انٹیلی جنس ایجنسیوں کے موثر اشتراک پر زور‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک میں اس وقت شدت پسندی کے خلاف جاری آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد تقریباً 20 لاکھ تک پہنچ گئی ہے

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جنرل ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی 177ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں دہشت گردوں سے لاحق خطرے کا مسلسل جائزہ لیتے رہنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس کا بروقت اور موثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔

انھوں نے تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارروائیوں کے موثر اشتراک پر بھی زور دیا تاکہ دہشت گردوں کے خلاف خاطر خواہ کامیابی حاصل کی جا سکے۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس میں پیشہ ورانہ امور کے علاوہ اندرونی اور بیرونی سکیورٹی کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا۔

کانفرنس میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کے ساتھ طے پانے والے سکیورٹی امور پر جلد عمل درآمد پر زور دیا۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں شمالی وزیرستان میں جاری ضربِ عضب اور خیبر ایجنسی میں جاری خیبر ون آپریشن کے اگلے مرحلے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

جنرل راحیل شریف نے دونوں آپریشنز پر اطمینان کا اظہار کیا۔

ملک بھر میں انٹیلی جنس آپریشنز کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی جن کے باعث بڑی تعداد میں شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ چھ دسمبر کو سکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے علاقے شین ورسک میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران القاعدہ کے اہم رہنما سمیت تین شدت پسندوں کو ہلاک کیا تھا۔

اس کارروائی میں عدنان الشکری کے ساتھ اس کا ایک ساتھی اور مقامی سہولت کار بھی ہلاک ہوئے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ عدنان الشکری کے ساتھ ان کا ایک ساتھی بھی مارا گیا جبکہ کارروائی کے دوران ایک پاکستانی فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے کور کمانڈر اجلاس کے بعد جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کانفرنس میں پناہ گزینوں کی واپسی اور بحالی کی جامع منصوبہ بندی پر غور کیا گیا۔

کانفرنس میں فوجی آپریشنز کے علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی بحالی پر تفصیلی بحث ہوئی۔

جنرل راحیل شریف نے زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر نقل مکانی کرنے والے افراد کی بحالی کے لیےکام کیا جانا چاہیے۔

ملک میں اس وقت شدت پسندی کے خلاف جاری آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد تقریباً 20 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

پاکستان کے سرحدی امور کے وفاقی وزیر ریٹائرڈ جنرل قادر بلوچ نے نومبر میں کہا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی تعداد تقریباً 20 لاکھ ہے جن میں سے 15 لاکھ رجسٹرڈ ہیں۔

انھوں نے بتایا تھا کہ ’15 لاکھ کے قریب رجسٹرڈ آئی ڈی پیز ہیں جن میں سے چھ لاکھ کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے، سات آٹھ لاکھ ایسے ہیں جنھوں نے خود کو رجسٹر نہیں کروایا۔‘

حالیہ مہینوں میں سیاسی جماعتیں حکومت پر پناہ گزینوں کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں