کراچی میں تحریکِ انصاف کے احتجاجی دھرنے

Image caption نمائش چورنگی اور سٹار چورنگی میں جاری دھرنوں میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علم بھی شریک ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تحریک انصاف کی جانب سے جمعے کو شہر کے مختلف مقامات پر انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجی دھرنے دیے گئے۔

پی ٹی کے کارکنوں نے نیشنل ہائی وے سمیت شاہراہِ فیصل اور ایم اے جناح روڈ پر دھرنے شروع کیے۔

مرکزی شاہراہوں پر صبح ہی سے دھرنوں کے باعث کئی علاقوں میں ٹرانسپورٹ معطل رہی جبکہ بعض مقامات پر ٹائر نذرِ آتش کر دیے گئے۔

نمائش چورنگی اور سٹار چورنگی میں جاری دھرنوں میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علم بھی شریک تھے۔

دوسری جانب تاجر تنظیموں کا کہنا تھا کہ جمعے کاروبار معمول کے مطابق جاری رہے گا۔ خیال رہے کہ کراچی میں جمعے کو اکثر دکانیں اور کاروباری مراکز دوپہر کو نمازِ جمعہ کے بعد کھلتے ہیں۔

اس سے پہلے جمعرات کو تحریک انصاف کی جانب سے جمعے کو دس مقامات پر دھرنوں کا اعلان کیا گیا تھا۔

Image caption تحریکِ انصاف سے نو مقامات پر دھرنوں پر اتفاق ہوا ہے: وزیرِاعلیٰ سندھ

تحریکِ انصاف نے شہر کے داخلی راستوں، سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے کے علاوہ دو مرکزی شاہراہوں شاہراہ فیصل اور ایم اے جناح روڈ پر بھی دھرنے دینے کا شیڈیول تھا۔

دھرنوں سے قبل رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے تحریکِ انصاف کی جانب سے جمعرات کی شب اورنگی، ناظم آباد، کیماڑی، سی ویو اور ملیر سمیت کئی علاقوں سے جلوس نکالے گئے۔

حکومت سندھ کی جانب سے تحریکِ انصاف کے احتجاج پر نرم لہجہ اختیار کیا گیا۔

انتخابی دھاندلیوں اور مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف جاری احتجاج کے دوران تحریکِ انصاف کی جانب سے اس سے پہلے بھی کراچی میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا جس سے عمران خان سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا تھا۔

ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے کہا تھا کہ کوئی بھی شہری یا دکاندار رضاکارانہ طور پر کاروبار بند رکھنےکا حق رکھتا ہے لیکن کسی کو بھی جلاؤ گھیراؤ کی اجازت نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں