تحقیقات کے لیے سات نہیں ایک ہی ہفتہ درکار ہے: عمران خان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان مبینہ دھاندلیوں کے خلاف اگست سے اسلام آباد میں احتجاج کر رہے ہیں

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت اگر چاہے تو اِنتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے چھ سات ہفتے نہیں بلکہ ایک ہفتہ ہی درکار ہے۔

سنیچر کو لاہور میں تحریک انصاف کے عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ووٹوں کی تصدیق کے لیے فارم 14 اور 15 کو آڈٹ کرلیا جائے اور الیکشن کمیشن نے عام اِنتخابات سے چند دن قبل جو اضافی بیلٹ پیپر چھپوائے تھے اور اُن کا بتایا جائے کہ وہ کہاں کہاں بھیجے گئے۔

عمران خان، کیری پیکر اور فیصل آباد

اُن کا کہنا تھا کہ اگر میاں نواز شریف مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں تو صرف 48 گھنٹے میں مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں کیونکہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بیشتر معاملات پہلے ہی طے پائے جا چکے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات کا سلسلہ وہیں سے شروع کیا جائے جہاں پر منقطع ہوا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ’اُُن کی جماعت صرف انتخابی دھاندلی کا احتساب چاہتی ہے کیونکہ اگر احتساب ہو گا تو سب کچھ منظر پر آ جائے گا کہ عام اِنتخابات میں دھندلی کے پیچھے کون تھا اور نگراں حکومت نے کتنے پنکچر لگائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک انصاف اب مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کر رہی ہے

انھوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اُن کے دھرنے سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے تو وہ اُن سے مذاکرات کریں تا کہ ملک کو مزید نقصان نہ ہو۔ لیکن اگر میاں نواز شریف مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں تو اُن کے لیے حکومت چلانا مشکل ہو جائے گا کیونکہ لاہور کے بعد اُن کی جماعت پورا ملک بند کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ جب اُن کی جماعت حکومت میں آئے گی تو سنیچر کی چھٹی بھی ختم کر دے گی۔ عمران خان نے کہا کہ اُن کے دھرنے کی وجہ سے پیڑولیم اور بجلی کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے۔

عمران خان نے مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کو فیصل آباد میں ہونے والے پرتشدد واقعات کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

انھوں نے رانا ثنا اللہ اور اُن کے ساتھیوں پر الزام عائد کیا کہ اُنہوں نے فیصل آباد میں ہونے والے پر امن احتجاج پر پہلے پتھراؤ کروایا اور اُس کے بعد گولیاں چلوائیں۔

اِس موقع پر تحریک انصاف کے سربراہ نے 15 دسمبر کو لاہور میں ہونے والے احتجاج کے لیے تاجروں سے شڑ ڈاؤن کی اپیل کی۔

اسی بارے میں