نوشہرہ سے لاشیں ملنے کے واقعات: مزید چھ برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تقریباً ایک ماہ پہلے بھی نوشہرہ میں سڑک کے کنارے سے لاشیں ملنے کے دو واقعات پیش آئے تھے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں حکام کا کہنا ہے کہ چھ نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

نوشہرہ کے ضلع پولیس سربراہ ربنواز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کو نوشہرہ کے نواحی علاقے نظام پور میں دریا کے کنارے چھ افراد کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں جنھیں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ لاشیں پانی میں کسی اور علاقے سے بہہ کر آئی ہیں۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مرنے والے افراد کون ہیں اور انھیں کس وجہ سے ہلاک کیا گیا ہے۔

پولیس افسر کے مطابق مقامی انتظامیہ نے لاشیں تحویل میں لے کر شناخت اور پوسٹ مارٹم کےلیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال نوشہرہ منتقل کردیا ہے۔

ہسپتال میں موجود مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ لاشوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ مرنے والے افراد کو سنیچر کی صبح یا گذشتہ روز ہلاک کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مرنے والے افراد کی عمریں 18 سے 30 سال کے لک بھگ بتائی جاتی ہے جن میں بعض کی داڑھیاں ہیں جبکہ بعض بغیر داڑھی کے ہیں۔

ان کے مطابق ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مرنے والے افراد کون ہیں اور ان کی قتل کی وجوہات کیا ہیں۔

خیال رہے کہ نوشہرہ میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران لاشیں ملنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تقریباً ایک ماہ پہلے بھی نوشہرہ میں سڑک کے کنارے سے لاشیں ملنے کے دو واقعات پیش آئے تھے۔

کچھ عرصہ قبل نوشہرہ سے چار بوری بند لاشیں بھی ملی تھیں جنھیں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔

مرنے والوں میں بعض عسکریت پسند بھی شامل تھے۔ اس سے پہلے پشاور میں بھی بوری بند لاشیں ملنے کے کئی واقعات پیش آئے تھے۔

پشاور میں ایک وقت میں یہ واقعات اتنے زیادہ ہوگئے تھے کہ پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس دوست محمد خان نے اس سلسلے میں ازخود نوٹس بھی لیا تھا جس کے بعد بوریوں میں بند لاشوں کے واقعات کم ہوگئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق پشاور میں بوری میں بند بیشتر لاشیں عسکریت پسندوں کی تھیں۔

اسی بارے میں