’دس کے دس لڑکے مار دیے‘

Image caption ’حملہ آوروں کی تعدا تین تھی اور سب کی بڑی بڑی مونچھیں اور داڑھیاں تھیں‘

پشاور میں پاکستانی فوج کے زیرِ انتظام چلنے والے ایک سکول پر طالبان کے حملے میں 130 سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

منگل کی صبح شروع ہونے والی کارروائی میں سکول میں موجود بچوں کی بڑی تعداد نشانہ بنی، تاہم خاصی تعداد میں بچے بچ کر باہر نکلنے میں کامیاب رہے۔

ہمارے نامہ نگار فعت اللہ اورکزئی کے مطابق حملے کے زخمی طالب علموں کا کہنا ہے کہ سکول میں فوجی اہلکاروں کی طرف سے طلبہ کو ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی جارہی تھی کہ اس دوران تین حملہ آوروں نے اچانک ہال میں داخل ہوکر اندھادھند فائرنگ شروع کر دی۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں زیر علاج دسویں جماعت کے ایک طالب شاہ رخ نے بتایا کہ جب فائرنگ شروع ہوئی تو وہ نیچے بیٹھ گئے اور تھوڑی دیر کے بعد جب اٹھے تو آدھے سے زائد طلبہ کو گولیاں لگی ہوئی تھیں اور وہ سب چیخ رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ہال میں آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کے درجنوں طالب علموں کو فرسٹ ایڈ کی تربیت دی جارہی تھی۔ ان کے مطابق ’ہمیں بالکل پتہ ہی نہیں چلا کہ حملہ آور کیسے اندر داخل ہوئے۔‘

Image caption میں نے دیکھا کہ مرنے والے افراد کے جسموں کے حصے کمرے میں ادھر ادھر پڑے ہوئے تھے۔

ان کے بقول ’حملہ آوروں کی تعدا تین تھی اور سب کی بڑی بڑی مونچھیں اور داڑھیاں تھیں۔ وہ سب سادہ لباس میں ملبوس تھے اور انھوں نے بڑے بڑے بوٹ پہنے ہوئے تھے۔‘

شاہ رخ کے مطابق: ’میں سیٹ کے نیچے لیٹا ہوا تھا اور میرے قریب دو اساتذہ بھی تھے اور انھیں بھی گولیاں لگی ہوئی تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کے تمام ساتھی کلاس فیلوز کو گولیاں لگی ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان میں کتنے ہلاک یا زخمی ہیں۔

سکینڈ ایئر کے ایک طالب علم عامر امین نے بتایا کہ کیمسٹری کا پرچہ ختم ہونے کے بعد وہ سب دوستوں کے ہمراہ سکول کے برآمدے میں بیٹھے ہوئے گپیں لگا رہے تھےکہ اس دوران سکول میں فائرنگ کی آوازیں شروع ہو گئیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے کلاس روم میں پناہ لینے کی کوشش کی لیکن ہمارا دروازہ بند کرنے سے پہلے ہی تین حملہ آور اندر داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کر دی: ’انھوں نے کہا کہ کمرے میں دس کے قریب لڑکے تھے اور سب کے سب ہلاک کر دیے گئے۔‘

عامر امین کے مطابق: ’حملہ آور چیخ رہے تھے کہ کلمہ پڑھو اور ساتھ ساتھ میں اللہ اکبر کے نعرے بھی بلند کرتے رہے اور فائرنگ بھی کرتے رہے۔ میں نے دیکھا کہ مرنے والے افراد کے جسموں کے حصے کمرے میں ادھر ادھر پڑے ہوئے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انھوں نے کہا کہ ان کی سکول کی سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ حملہ آور پیچھے کی دیوار پھلانگ کر سکول میں داخل ہوئے۔

عامر امین نے مزید بتایا کہ سکول میں پہلے سے حملے کی کوئی اطلاع نہیں تھی اور نہ ہی سکول انتظامیہ نے اس سلسلے میں کچھ بتایا تھا۔

’میں نے ایک حملہ آور کو دیکھا اس کی بڑی بڑی داڑھی تھی اور بڑے بڑے بال بھی تھے اور اس نے سویٹر پہنا ہوا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حملہ آور منصوبہ بندی کر کے آئے تھے کیونکہ ان کےلیے کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔

ہمارے دوسرے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ورسک روڈ پر واقع آرمی پبلک سکول سے باہر آنے والے ایک عینی شاہد مدثر اعوان کا کہنا تھا کہ ’جیسے ہی فائرنگ شروع ہوئی، ہم اپنی کلاسوں کی جانب بھاگے۔ سکول کے آڈیٹوریم میں نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کی الوداعی تقریب ہو رہی تھی اور کچھ طلبہ وہاں موجود تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اوپری منزل پرگیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات ہو رہے تھے اور طلبہ کمروں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے حملہ آوروں کو دیکھا، وہ تعداد میں چھ یا سات تھے۔ وہ ہر کمرے میں گھس گھس کر بچوں کو مار رہے تھے۔‘

ایک اور عینی شاہد نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے دروازہ بند کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اسے توڑ کر اندر آگئے اور پھر فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کی شدت سے لگتا تھا کہ وہ 20 سے 25 ہیں۔ ہم میزوں کے نیچے چھپ گئے تو انھوں نے ہمارے سر اور ٹانگوں کی جانب گولیاں چلانی شروع کر دیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ان کا کہنا تھا کہ ’فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا اور وہ بار بار کمرے میں آتے رہے۔ ہم میں سے کوئی نہ ہلا کیونکہ جو بھی ہلتا وہ اسے مار دیتے۔‘

سکول کے بس ڈرائیور جمشید خان نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم سکول کے باہر کھڑے تھے کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔ ہر طرف افراتفری تھی اور بچوں اور اساتذہ کی چیخوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔‘

ایک طالب علم کے والد نے بتایا کہ انھوں نے اپنے بیٹے سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جہاں سے انھیں بتایا گیا کہ پانچ سے چھ مسلح افراد سکول میں داخل ہوئے ہیں اور فائرنگ کی ہے۔

شیریں خالد ودود نامی خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی دوست کی 13 سالہ بیٹی اپنی جماعت میں زندہ بچ جانے والی واحد لڑکی تھی۔

شیریں نے بتایا کہ اس بچی نے حملہ آوروں پر ظاہر کیا کہ وہ گولی لگنے کے نتیجے میں ہلاک ہو چکی ہیں لیکن جب وہ ان کی جماعت سے نکل گئے تو وہ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔

طالبہ کی ٹانگ زخمی ہے اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ خوش قسمتی سے وہ زیادہ زخمی تو نہیں لیکن شدید خوفزدہ ہیں۔

اسی بارے میں