طالبان کا مقصد، سیاسی تقسیم بڑھانا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فوجیوں کے بچوں کو نشانہ بنا کر وہ فوجیوں اور عوام کے حوصلہ پشت کرنا چاہتے ہیں۔

معروف تجزیہ نگار احمد رشید نے کہا ہے کہ پاکستان موجودہ دور میں قیادت کے فقدان میں مبتلا ہے اور طالبان جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ملک کو مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے افغانستان اور پاکستان میں شدت پسندی اور دہشت گردی کے متعلق کئی کتابوں کے مصنف نے کہا کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے رویے میں طالبان کے حوالےسے ایک سو اسّی ڈگری کی تبدیلی درکار ہے بصورت دیگر طالبان کے خلاف کارروائیاں موثر ثابت نہیں ہو سکیں گی۔

احمد رشید نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد چار مہینے تو طالبان سے مذاکرات کی باتوں میں ضائع کر دیے جبکہ حزب اختلاف کی بڑی جماعت کے رہنما عمران خان طالبان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سربراہ طالبان اور دہشت گردی کے خلاف بالکل بات نہیں کرتے اور وہ انھیں ’ہمدرد‘ اور ’ساتھی‘ سمجھتے ہیں۔

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے احمد رشید نے کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کو ملک میں یکجہتی پیدا کرنی ہے اور جب تک وہ یکجہتی پیدا نہیں کرتے حالات تبدیل نہیں ہو سکتے۔

انھوں نے کہا کہ موجود سیاسی حالات میں تو اس بات کا امکان بہت کم نظر آتا ہے۔

سکول پر حملے سے طالبان کیا پیغام دینا چاہتے ہیں اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے کئی ایک پیغامات ملتے ہیں۔

اول یہ کہ طالبان نے ایک ’سافٹ‘ ہدف کو نشانہ بنایا اور فوجیوں کے بچوں کو نشانہ بنا کر وہ فوجیوں اور عوام کے حوصلہ پشت کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ طالبان ملک میں موجودہ سیاسی تقسیم کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ سیاست دان ایک دوسرے پر الزام لگائیں اور لڑتے رہیں۔

احمد رشید نے کہا کہ اس حملے کی ایک بڑی وجہ وزیرستان اور دیگر علاقوں میں فوجی کارروائی میں مارے جانے والے لوگوں کا بدلہ لینا تھا۔

انھوں نے کہا کہ سکول کو نشانہ بنانے سے ایک اور پیغام یہ بطی ہو سکتا ہے کہ ملالہ تعلیم کے بارے میں جو بات کرتی ہے وہ اس کے مخالف ہیں۔