پشاور حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین اور سوگ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption کئی ہلاک شدگان کی تدفین منگل کی رات کو ہی کر دی گئی

پشاور کے آرمی پبلک سکول میں طالبان کے قتلِ عام کا نشانہ بننے والے بچوں اور دیگر افراد کی تدفین کر دی گئی ہے جبکہ ملک میں تین روزہ سوگ کے پہلے دن بدھ کو دعائیہ تقریبات اور احتجاجی ریلیاں منعقد کی گئیں۔

اس سے قبل منگل کو رات گئے پاکستانی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس حملے میں 132 بچوں سمیت کل 141 ہلاکتیں ہوئی ہیں، اور ہلاک ہونے والوں میں سات خودکش حملہ آور بھی شامل تھے جو سبھی مارے گئے۔

آپریشن مکمل، سکول کلیئر، 132 بچوں سمیت 141 ہلاکتیں

’حملہ قومی سانحہ ہے‘: تین روزہ سوگ کا اعلان

آرمی پبلک سکول پر حملہ، کب کیا ہوا؟

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق آرمی پبلک سکول اینڈ کالج میں حملے میں ہلاک ہونے والے پشاور کے بچوں اور دیگر تمام افراد کی تدفین بدھ کو کر دی گئی جبکہ کئی مقامات پر غائبانہ نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئیں۔

پشاور کے علاقے گلبہار اور اس سے ملحقہ علاقوں میں دو روز میں 12 سے زیادہ افراد کے جنازے اٹھائے گئے جبکہ صدر کے قریب گلبرگ میں تین مقامات پر ہلاک ہونے بچوں کے لیے بدھ کو فاتحہ خوانی کی گئی۔

اس کے علاوہ شہر میں مختلف تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں جن میں اس واقعے کے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں سے بہت سے افراد کے جنازے منگل کی شام کو بھی پڑھائے گئے تھے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں بھی سوگ کے موقع پر شہر کے بازار اور کاروبار بند رہے اور بدھ کی شام مختلف مقامات پر پشاور کے واقعے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی یاد میں دعائیہ تقاریب منعقد کی گئیں۔

ان تقاریب میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

کوہسار مارکیٹ اور پریس کلب کے سامنے ہونے والی ان تقاریب کے شرکا نے ہلاک شدگان کی یاد میں شمعیں روشن کی اور پھول رکھے۔

نامہ نگار ذیشان حیدر کے مطابق ان تقاریب کے شرکا نے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن میں دہشت گردوں کو پھانسی دینے کے علاوہ ہلاک شدگان کی یاد میں تعزیتی پیغامات درج تھے۔

پشاور کے واقعے کے نتیجے میں پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی بھی سوگوار رہا اور روزمرہ کے معمولاتِ زندگی معطل رہے۔

نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق منگل کی شام ہی سے شہر کے مختلف علاقوں میں واقع چوراہوں پر عوام کی جانب سے مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

بدھ کی صبح بھی شہر کی فضا سوگوار تھی اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کافی کم رہا۔

شہر کے بیشتر کاروباری مراکز جن میں صدر کی الیکٹرانکس مارکیٹ، جیولری مارکیٹ۔ جامعہ کلاتھ ، بولٹن مارکیٹ ، کپڑا مارکیٹ شامل ہیں بند رہے۔ البتہ کہیں کہیں دکانیں سہ پہر کے بعد جزوی طور پر کھلنا شروع ہوئیں۔

شہر میں سرکاری جامعات اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند تھے تاہم کچھ نجی تعلیمی ادارے کھلے رہے جہاں حاضری معمول سے کم رہی۔

سندھ بار کونسل کی اپیل پر وکلاء نے سندھ ہائیکورٹ اور کراچی کی ضلعی عدالتوں کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ کراچی میں وکلاء کی جانب سے بھی ریلی نکالی گئی جس میں پشاور واقعے کی شدید مزمت کی گئی۔ وکیل رہنما نعیم قریشی نے اس موقع پر کہا کہ یہ ایک قوم بننے کا وقت ہے۔

شہر میں کئی مقامات پر مختلف سیاسی اور غیر سیاسی تنظیموں نے پشاور کے سانحے کے خلاف احتجاج کیا۔

پختون خواہ ملی عوامی پارٹی نے شہر میں ایک احتجاجی ریلی نکالی جو پریس کلب پر اختتام مزیر ہوئی۔ اس ریلی کے شرکاء نے ایسی پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن میں پاکستانی کی مسلح افواج اور انٹیلیجنس ایجنسیز کی کارکردگی پر سوال اٹھائے گئے تھے اور پشتونوں کا قتلِ عام روکنے کی اپیل کی گئی تھی۔

ریلی کے شرکاء جمہوریت کے حق میں اور آمریت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

اس ریلی کی قیادت محمد سکندر خان کر رہے تھے جنہوں نے اس سانحے کی ذمہ داری تحریک انصاف کی قیادت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’پرویز خٹک تو پشاور میں طالبان کا دفتر کھولنا چاہتے تھے۔ اصل میں وہ ڈاڑھی والے طالبان ہیں اور عمران خان اور پرویز خٹک بغیر ڈاڑھی کے طالبان ہیں۔‘

اس تمام تر احتجاج کے دوران اپنی احتجاجی سیاست کے لیے مشہور تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی احتجاج کرتی نظر نہیں آئیں۔

اس بارے میں جب جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر نعیم الرحمان سے پوچھا گیا کہ کشمیر، برما اور فلسطین کے معاملے پر تو جماعتِ اسلامی کا احتجاج بہت شدید ہوتا ہے اب ایسا کیوں نہیں تو وہ ذرا برہم ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ خود طے کریں گے کہ ہمیں کیسا احتجاج کرنا ہے۔ ہم نے کراچی میں غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی ہے۔‘

دوسری جانب تحریکِ انصاف رکنِ صوبائی اسمبلی حفیظ الدین نے اس تاثر کو ردِ کرنے کی کوشش کی کہ ان کی جماعت متحرک نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ روز شارع فیصل پر شمعیں روشن کی تھیں اور آج غائبانہ نمازِجنازہ پڑھی ہے اور قرآن خوانی بھی کررہے ہیں جبکہ ایک امن واک کا اہتمام بھی کیا جارہا ہے۔ تاہم احتجاج نہ کرنے کے سوال پر انہوں نے کچھ نہیں کہا۔

اسی بارے میں