سکول حملے میں ہلاک ہونے والے کون تھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پشاور میں واقع آرمی پبلک سکول پر منگل کو طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 141 افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع آرمی پبلک سکول پر منگل کو طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 141 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس حملے میں آرمی پبلک سکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی بھی ہلاک ہوئی تھیں۔

پشاور کے متعدد نوجوان طاہرہ قاضی کو ’ہیرو‘ قرار دے رہے ہیں۔

آرمی پبلک سکول پشاور کی پرنسپل، طاہرہ قاضی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طاہرہ قاضی پشاور کے آرمی سکول پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئی تھیں

آرمی پبلک سکول کی پرنسل طاہرہ قاضی کے سابق شاگرد انھیں سوشل میڈیا سائٹس پر خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

ان کے ایک شاگرد رحیم خان کا طاہرہ قاضی کی موت کے بارے میں کہنا تھا کہ ان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔

انھوں نے ٹویٹ کیا ’میری پسندیدہ استاد مسز طاہرہ قاضی، آپ شہید ہیں۔‘

رحیم خان نے طاہرہ قاضی کے ساتھ اپنی ایک تصویر کو بھی پوسٹ کیا۔

طاہرہ قاضی پشاور کے آرمی سکول پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئی تھیں۔

طاہرہ قاضی کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ شہر کی ہیڈ ٹیچرز میں سب سے زیادہ تجربہ کار تھیں۔

ایک عینی شاید نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے کے دوران طاہرہ قاضی نے متعدد طلبا کو محفوظ مقام پر پہنچایا اور بچوں کے والدین کو فون کر کہ کہا کہ وہ سکول آ کر انھیں لے جائیں۔ تاہم طاہرہ قاضی کی موت کے اصل حالات واضح نہیں ہیں۔

Image caption آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں 14 یا 15 سالہ طالب علم شیر شاہ بھی شامل تھے

طاہرہ قاضی کو اپنی ڈیوٹی کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر سنہ 2012 میں آرمی پبلک سکول کی پرنسپل بنا دیا گیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے آرمی پبلک سکول کے ایک طالب شاہ رخ خان کے حوالے سے بتایا کہ حملے کے وقت سکول کے مین ہال میں آٹھویں سے دسویں جماعت کے طالب علموں کا فرسٹ ایڈز سے آگاہی کے بارے میں سیمینار جاری تھا جب طالب علموں نے گولیوں کی آوازیں سنیں اور اس کے بعد دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

روئٹرز کے مطابق شاہ رخ خان کی دونوں ٹانگوں پر گولیاں لگیں تاہم وہ کسی طرح وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔

آرمی پبلک سکول کے طالب علم شیر شاہ

آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں 14 یا 15 سالہ طالب علم شیر شاہ بھی شامل تھے۔

آرمی پبلک سکول کے استاد، سعید خان

آرمی پبلک سکول کےاستاد سعید خان بھی شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سعید خان کی تدفین پشاور میں بدھ کی رات کی گئی

ان کی تدفین پشاور میں بدھ کی رات کی گئی۔

سعید خان کو بھی ان کے جاننے والوں نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انھیں خراجِ عقیدت پیش کرنے والوں میں بن کتب فاؤنڈیشن بھی شامل ہے۔

اس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ سعید خان نے ہمیشہ اس ادارے کی عوام کی بھلائی سے متعلق کی جانے والی کوششوں کی حمایت کی۔

آرمی پبلک سکول کے طالب علم، عثمان صدیق

آرمی پبلک سکول پر حملے میں عثمان صدیق بھی ہلاک ہوئے تھے۔

ان کے ایک دوست نے بی بی سی کو بتایا کہ دسویں جماعت کے طالب علم عثمان صدیق کی لاش ان کے آبائی شہر ایبٹ آباد میں تدفین کے لیے روانہ کر دی گئی۔

احمد الہٰی

حملے میں ہلاک ہونے والے احمد الٰہی کی کزن سندس اشعر بتاتی ہی ’وہ نہ صرف سکول کے ہونہار طلبا میں سے ایک تھے بلکہ فرشتہ صفت طبعیت کا مالک تھے۔ ان کی شخصیت اتنی اچھی تھی جتنا اچھا کوئی سوچ سکتا ہے۔ وہ ہمیشہ سے ایک ڈاکٹر بننا چاہتے تھے۔‘

حملے کے روز وہ ایمولینس تک پہنچ گئے تھے لیکن بعد میں وہ اپنے چھوٹے بھائی کو بچانے دوبارہ سکول کے اندر گئے۔ اس کے چھوٹے بھائی کو تو فوج نے بچا لیا تھا مگر احمد کبھی واپس نہیں آ سکے۔

معظم علی خان

14 سالہ معظم علی خان کے بارے میں ان کے ایک رشتے دار نے بتایا کے ’وہ کیمرے سے شرماتے تھے۔ وہ ان بچوں میں سے نہیں تھا وہ شوخ چشمے پہن کر بالوں میں جیل لگا کر دکھاوا کرتے ہیں۔ وہ صرف پڑھائی پر توجہ دینا چاہتا تھا تاکہ مستقبل میں ایک کامیاب انسان بن سکے۔ اچھی پڑھائی کے حصول کے لیے ہیں وہ اپنی نانی کے پاس پشاور میں رہائش پذیر تھے۔‘

بینش پرویز ٹیچر

پشاور حملے میں ہلاک ہونے والی ٹیچر بینش پرویز تین بچوں کی ماں تھیں۔ ان کی بہن بتاتی ہیں ان کی سب سے چھوٹی بیٹی صرف تین ماہ کی ہے۔ ان کے بقول ’میرے بہن کمپیوٹر لیب میں تھیں جب فائرنگ شروع ہوئی وہ بچوں کو بچانے کے لیے دروازہ بند کر رہی تھیں کہ انھیں گولی لگ گئی۔ بعد میں ان کی پوری کلاس کو بھی مار دیا گیا۔ جو درد ان ظالموں نے میرے خاندان اور پورے ملک کو دیا ہے وہ ناقابلِ برداشت ہے۔‘

یاسر اللہ

آٹھ سالہ یاسر اللہ پشاور کےصحافی منظور علی کے رشتے دار تھے۔ جنھوں نے ایک تحریر میں لکھا تھا یہ واقعہ پاکستان 9/11 کا ہے۔

مبین شدید آفریدی

سکول میں ہمیشہ اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے مبین کی شدید کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر یا انجینیئر بنیں۔ انھیں اس وقت پشت سے سر میں گولی مار دی گئی جو وہ ایک کھڑکی سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسی بارے میں