یہ زمین صرف سات ہزار لوگوں کے لیے ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption پشاور میں ہلاک ہونے والے طلبہ کا جنازہ پڑھایا گیا

زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ قتال ہم نے اپنے علما سے فتویٰ لینے کے بعد کیا۔ صرف ان بچوں کو مارنے کی ہدایت دی گئی تھی جن کے زیرِ ناف بال ہیں اور جو ہم سے برسرِ پیکار گمراہ فوجیوں کی اولاد ہیں۔

یہی اصول بنو قریظہ کے بچوں کے قتال کے وقت بھی لاگو ہوا تھا۔ ہاں بنو قریظہ یہودی تھے، مگر جو یہودیوں، نصرانیوں اور مشرکوں کا ساتھ دے، وہ کون ہوا؟

تو پھر تم کیسے کہتے ہو کہ پشاور میں جو قتال ہوا وہ ناجائز تھا؟ تم بھلے کچھ بھی کہتے رہو، مگر ہم نے قتال فی سبیل اللہ کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ کام کیا۔ یہ قصاص ہے ہمارے بچوں کو مارنے والوں کے لیے۔ آنکھ کے بدلے آنکھ، بچے کے بدلے بچہ۔

ہاں قصاص کا فیصلہ کرنا ریاست کا کام ہے، مگر جب ریاست ہی دشمنوں کی ایجنٹ ہو جائے تو قصاص کا فیصلہ کون کرے؟

ہاں ہاں، یہ بھی کہا گیا تھا کہ جہاد کے دوران کفار کے بچوں، عورتوں، بوڑھوں سے مہربانی سے پیش آنا۔ مگر وہ حالات دوسرے تھے۔ یہاں آج وہ حالات نہیں۔ لہٰذا بے محل حوالے دے کر عام مسلمانوں کو گمراہ کرنے سے گریز کرو۔

ہا ہا ہا۔۔۔ اپنے آقاؤں کی خوشنودی یا اپنی کھال اور چہرے بچانے کے لیے تمھارا یہ کہتے رہنا ہماری سمجھ میں خوب آتا ہے کہ جس نے بھی یہ کام کیا ہے، ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ اسلام کسی بھی صورت میں کسی کے بھی بچوں کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا۔ کوئی بھی مسلمان ایسا ظلم کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہم یہ بہیمانہ دہشت گردی قبول نہیں کرسکتے۔ مگر ہم کسی کا نام نہ لیں گے۔ جس نے بھی یہ گھٹیا حرکت کی ہے اس نے اچھا نہیں کیا مگر ہم کسی کا نام نہیں لیں گے کیونکہ جب تک ٹھوس ثبوت نہیں مل جاتے کہ یہ کام دراصل کس گروہ نے کیا ہم کسی کا نام نہیں لیں گے۔

اگر یہ کام گمراہ مسلمانوں نے کیا تو ہم بغیر نام لیے ان کے راہِ راست پر آنے کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالی ان گم ناموں کی خطائیں معاف فرمائے۔ ہو سکتا ہے یہ کام مسلمانوں کے بھیس میں کسی اسلام دشمن طاقت نے کیا ہو یا چند مسلمانوں کو ورغلا کے استعمال کر لیا ہو مگر ہم کسی کا نام نہیں لیں گے۔

ہاں ٹھیک ہے کہ فلاں ابنِ فلاں نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ لیکن کیا ثبوت ہے کہ جن صاحب نے جس گروہ کے نام پر ذمہ داری قبول کی وہی ذمہ دار ہے۔ اگر میں کل کلاں بغیر سامنے آئے ٹیلی فون پر کسی واقعے کی ذمہ داری قبول کر لوں تو کیا آپ یقین کر لیں گے۔

غزہ کا معاملہ دوسرا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ بربریت کا ذمہ دار اسرائیل ہے، چاہے مانے نہ مانے۔ کشمیر کا معاملہ الگ ہے۔ سب جانتے ہیں مکار ہندو ذمہ دار ہے، چاہے مودی تسلیم کرے نہ کرے۔ عراق کا معاملہ اظہر من الشمس ہے۔ سب جانتے ہیں امریکہ وہاں کے بے گناہ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے خون میں گھٹنوں گھٹنوں ڈوبا ہوا ہے، بھلے وائٹ ہاؤس اپنے سیاہ کرتوت چھپانے کے لیے کتنے ہی سفید جھوٹ بولے۔

سب جانتے ہیں اس وقت عالمی میڈیا پر یہود و نصاریٰ اور ان کے کاسہ لیسوں کا قبضہ ہے۔ جن کا مقصد ہی مسلمانوں کو درست راہ دکھانے والوں کی کردار کشی ہے۔ اور تم میں سے کچھ ہیں کہ انھی کے الفاظ طوطے کی طرح دہراتے رہتے ہیں کہ یہ داعش کا کام ہے، وہ القاعدہ کا کارنامہ ہے اور اس حرکت کے پیچھے طالبان ہیں۔

خود ہی سوچو کہ خدا کی زمین پر خدا کا خالص نظام نافذ کرنے کے دعویدار مذکورہ گروہ جنھیں ایک سازش کے تحت بدنام کرنے کی عالمی مہم چلائی جارہی ہے کیسے کسی بے گناہ مسلمان کے خون سے ہاتھ رنگ سکتے ہیں؟

اگر یہ گروہ اتنے ہی برے ہوتے تو پھر انھیں اپنے گھروں میں پناہ کیوں دیتے ہو؟ ان کے مجاہدین کو ایک سے دوسری جگہ پہنچانے میں کیوں مدد کرتے ہو؟ انھیں بھلا اشیائے خوردونوش، رقم اور اسلحہ کون پہنچاتا ہے؟ ان کے لیے لاکھوں مسلمانوں کے دل میں نرم گوشہ کیونکر پیدا ہوتا ہے؟ ان گروہوں میں تمہارے ہی لاڈلے پڑھے لکھے جگر گوشے کیوں شامل ہو رہے ہیں۔

اور تم لوگ جو لوڈ شیڈنگ اور صرف قتلِ ناحق کے خلاف جلتے ٹائر اور لاش لے کر روزانہ سڑکوں پر آجاتے ہو، ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ہمارے خلاف سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتے؟

کوئی تو وجہ ہو گی۔ اور وجہ تم سب جانتے ہو۔ زبان سے بھلے تسلیم کرو نہ کرو مگر دل پر ہاتھ رکھ کے کہو کیا ہم تمھارے دلوں میں نہیں رہتے؟ تمھارے دماغوں میں نہیں بستے؟ یہی تو وہ پناہ گاہ ہے جہاں ہمیں کوئی زمینی طاقت نہیں ڈھونڈ سکتی۔

اگر ہم اتنے ہی برے ہوتے جتنا بتایا جارہا ہے تو پھر خدا ہمیں ڈھیل کیوں دے رہا ہے؟ ہم کیوں پھل پھول رہے ہیں؟ کیا مچھلی پانی سے باہر زندہ رہ سکتی ہے؟

ہماری مذمت کرنے والے اے مٹھی بھر گمراہو! اپنے گریبانوں میں جھانکو۔ خدا تمھیں معاف کرے اور تمہاری خطاؤں اور بے اعتدالیوں سے درگزر فرمائے اور تمھیں اس راستے پر چلنے کی توفیق دے کہ جس پر ہم چل رہے ہیں۔ خدا کی قسم اس زمین کو سات ارب بھیڑ بکریوں کی نہیں صرف سات ہزار راست انسانوں کی ضرورت ہے۔

کیا تمہیں اتنی سی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی ہم پر الزام دھرنے والو؟

اسی بارے میں