’آرمی چیف نے چھ شدت پسندوں کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کر دیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان قیدیوں کو فوجی عدالتوں کی جانب سے پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کورٹ مارشل میں سزائے موت پانے والے چھ شدت پسندوں کی سزا پر عمل درآمد کی منظوری دے دی ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت جنرل راحیل شریف نے چھ شدت پسندوں کے ڈیتھ وارنٹس پر دستخط کر دیے ہیں۔

ان قیدیوں کو فوجی عدالتوں کی جانب سے پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے دی گئی اس خبر میں ان خطرناک مجرموں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

دوسری جانب وزارت داخلہ کے ذرائع نے 17 ایسے قیدیوں کے نام ظاہر کیے ہیں جنھیں وزیرِ اعظم کی جانب سے سزائے موت پر عملدرآمد کی اجازت دیے جانے کے بعد پھانسی دی جائےگی۔

دہشت گردی کے الزامات میں موت کی سزا پانے والے ان 17 قیدیوں میں عقیل عرف ڈاکٹر عثمان، کامران اسلم، احسان عظیم، عمر ندیم، محمد زاہد، اخلاص احمد عرف روسی، ارشد محمود، غلام سرور، زبیر احمد، عطااللہ، محمد اعظم، محمد بہرام خان، شفقت حسین، محمد علی، راشد محمود، جلال عرف عبدالجلال اور عبدالرزاق شامل ہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق ان مجرمان میں چار قیدی سکھر، دو کراچی، چار لاہور، پانچ فیصل آباد جبکہ بہاولپور اور مردان میں ایک ایک قیدی شامل ہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان مجرمان کو جی ایچ کیو حملہ، کامرہ، اور فوجی اور پولیس افسران کو نشانہ بنانے کے مقدمات میں عدالتوں کی طرف سے موت کی سزا سُنائی گئی تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان وزیرِ اعظم نواز شریف نےسزائے موت پر عملدرآمد کی بحالی کا اعلان پشاور میں طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 141 افراد کی ہلاکت کے بعد کیا تھا۔

ادھر دہشت گردی کے مقدمات میں موت کی سزا پانے والے قیدیوں کی تفصیلات سے متعلق سیکریٹری داخلہ نے سنیچر کو اجلاس طلب کیا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق ہوم سیکریٹری نے چاروں صوبوں کے آئی جی پولیس، اور آئی جی جیل خانہ جات کواسلام آباد میں طلب کیا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

تاہم ایک غیر سرکاری تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مجرموں میں سے 10 سے 12 فیصد قیدی ایسے ہیں جنھیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی ہے۔