طالبان نے مذاکرات کا راستہ بالکل بند کردیا: مولانا فضل الرحمٰن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طالبان نے مذاکرات کے امکانات کو ختم کردیا ہے: فضل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات بھرپور قومی یکجہتی کا تقاضہ کرتے ہیں اور طالبان سے مذاکرات کے راستے بند ہو چکے ہیں۔

بیرون ملک سے واپسی پر پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے تصدیق کی کہ وہ مذاکرات کے آپشن پر اب بھی کام کر رہے تھے لیکن پشاور سکول پر حملہ کر کے طالبان نے مذاکرات کا راستہ بند کر دیا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا ’جو اپنے آپ کو تحریک طالبان کہتے ہیں یا جنھوں نے ذمہ داری قبول کی ہے، مذاکرات کے امکانات کو اگر ختم کیا ہے تو ان کے اس اقدام نے ختم کیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ان کی جماعت اب تک حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو مذاکرات کے راستے میں رکاوٹ سمجھتی تھی لیکن پشاور واقعے کے بعد مذاکرات کی بات نہیں کی جا سکتی۔

فضل الرحٰمن نے کہا کہ بچوں کے خون کے نذرانے نے پاکستانی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہونے کا موقع دیا ہے اور اب مزید غیر سنجیدگی کی گنجائش نہیں ہے۔

’پوری قوم کو ایک صف ہونا پڑے گا۔ اپنے ملک اور پورے خطے کو اس صورتحال سے نکالنے کے لیے ہمیں اپنا فرض ادا کرنا ہو گا اور ایک مشترکہ حکمت عملی بنانی ہوگی کہ کس طرح ہم ایسے حالات سے نکل سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا اس کی گنجائش نہیں کہ سیاسی یا مذہبی جماعتیں اپنے باہمی اختلافات کو چھیڑیں۔

’ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے اپنے نونہالوں کے حوالے ایک خون آلود مستقبل دیا ہے ہم انھیں امن کی نوید نہیں دے سکے۔‘

یہ کس کی جنگ ہے؟

اس سوال کے جواب میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ جب پڑوس میں آگ لگتی ہے اور آپ اس پر پانی ڈالیں گے تو وہ آپ کے اپنے گھر میں بھی لگے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اس وقت پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور اسے مل کر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعاون کے ساتھ دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے اسلام کے چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے اور اس قسم کے اقدام کو جہاد نہیں کہا جا سکتا۔

’ تمام مذہبی طبقے بالخصوص ملک کے نامور علما مولانا رفیع عثمانی نے وضاحت کے ساتھ اسے اسلام کے نام پر بغاوت قرار دیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ چند لوگوں کی جانب سے نے بندوقیں اٹھا لینے کے باوجود ملک بھر میں موجود علما، مذہبی طبقے اور مدارس ملک میں پرامن کردار ادا کر رہے ہیں اور وہ اس قسم کے منفی اقدامات کے ساتھ نہیں۔

اسی بارے میں