’پہلے مرحلے میں 17 دہشت گردوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ‘

Image caption پاکستان میں سزائے موت کے منتظر مجرموں میں سے 10 سے 12 فیصد ایسے ہیں جنھیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت یہ سزا سنائی گئی ہے

پاکستان میں حکام نے وزیرِ اعظم کی جانب سے دہشت گروں کی سزائے موت پر عملدرآمد کی اجازت دیے جانے کے بعد ملک کی مختلف جیلوں میں قید کم از کم 17 مجرموں کی فہرست تیار کی ہے جنھیں پہلے مرحلے میں پھانسی دی جائے گی۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نےسزائے موت پر عملدرآمد کی بحالی کا اعلان پشاور میں طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 141 افراد کی ہلاکتکے بعد کیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے الزامات میں موت کی سزا پانے والے ان 17 قیدیوں میں عقیل عرف ڈاکٹر عثمان، کامران، احسان عظیم، عمرندیم، زاہد عرف زادہ، اخلاص احمد عرف روسی، ارشد محمود، غلام سرور، زبیراحمد، عطااللہ، محمداعظم، محمد بہرام خان ،شفقت حسین، محمد علی، ارشد محمود ،جلال عرف عبدالجلال اور عبدالرزاق شامل ہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق ان مجرمان میں چار قیدی سکھر، دو کراچی، چار لاہور، پانچ فیصل آباد جبکہ بہاولپور اور مردان میں ایک ایک قیدی شامل ہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق ان مجرمان کو جی ایچ کیو حملہ، کامرہ، اور فوجی اور پولیس افسران کو نشانہ بنانے کے مقدمات میں عدالتوں کی طرف سے موت کی سزا سُنائی گئی تھی۔

وفاقی وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ان مجرموں میں راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر اور کامرہ میں فضائیہ کے اڈے سمیت اہم فوجی اور سویلین تنصیبات پر حملہ کرنے والے شدت پسند بھی شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان 17 افراد میں سے دس پنجاب، چھ سندھ اور ایک خیبر پختونخوا کی جیل میں قید ہے اور پنجاب میں زیادہ تر یہ قیدی فیصل آباد اور بہاولپور کی جیلوں میں ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ ان کے ناموں کا انتخاب وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار اور وزیرِ اعظم نواز شریف کی ملاقات میں کیا گیا تھا جس کے بعد یہ فہرست صدرِ مملکت کو بھیجی گئی۔

وزارتِ داخلہ کے اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر مملکت کی جانب سے ان تمام مجرموں کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی گئی ہیں۔

سزاؤں پر عملدرآمد کے حوالے سے اہلکار کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ضروری دفتری کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے اور جلد از جلد سزائے موت کے احکامات پر عمل ممکن بنایا جائے گا۔

Image caption شدت پسندوں نے اکتوبر سنہ 2009 میں راولپنڈی میں واقع جی ایچ کیو کو نشانہ بنایا تھا

ان کا کہنا تھا کہ ان میں ایک اہم نام عقیل عرف ڈاکٹر عثمان نامی دہشت گرد کا ہے جو اس وقت فیصل آباد کی جیل میں قید ہے۔

عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا بنیادی تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے ہے اور انھیں اکتوبر سنہ 2009 میں جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کا منصوبہ ساز سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت نے برسرِاقتدار آنے کے بعد پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

تاہم اگست 2013 میں تحریک طالبان پاکستان نے حکومت پنجاب اور حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کو دھمکی دی تھی کہ اگر عقیل سمیت ان کے چار ساتھیوں کو پھانسی دی گئی تو پنجاب حکومت کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔

اس دھمکی کے بعد حکومت کی جانب سے اگرچہ ملک میں سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کا حکم تو جاری نہیں کیا گیا تاہم نواز شریف کے اس دورِ حکومت میں تاحال کسی بھی مجرم کو پھانسی نہیں دی گئی ہے۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا اور 2008 سے 2013 کے دوران صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور ان دونوں کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

تاہم ایک غیر سرکاری تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مجرموں میں سے 10 سے 12 فیصد قیدی ہی ایسے ہیں جنھیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی ہے۔

بی بی سی اردو سے گفتگو میں ادارے کی سربراہ سارہ بلال نے بتایا تھا کہ سنہ 2012 تک کے اعدادوشمار کے مطابق ’پنجاب میں 641، سندھ میں 131، خیبر پختونخوا میں 20 جبکہ بلوچستان میں دہشت گردی ایکٹ کے تحت موت کی سزا پانے والوں کی تعداد 26 ہے۔‘

اسی بارے میں