ڈاکٹر عثمان اور ارشد محمود کو پھانسی دے دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پھا نسی کے بعد مختلف شہروں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ جیل کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ جی ایچ کیو پر حملے کے مجرم محمد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے مجرم ارشد محمود کو جمعے کی شام پھانسی دے دی گئی ہے۔

یہ پاکستان میں گذشتہ دو برس میں پہلا موقع ہے کہ کسی مجرم کو تختۂ دار پر چڑھایا گیا ہے۔

ان دونوں شدت پسندوں کے نام ان 17 مجرموں کی فہرست میں شامل تھے جنہیں وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے دہشت گردوں کی سزائے موت پر عملدرآمد کی بحالی کے احکامات کے بعد ابتدائی مرحلے میں پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل کے اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا ان پھانسیوں کے لیے جیل کے قواعد و ضوابط میں ترامیم کی گئی ہیں۔

ماضی میں پھانسی ہمیشہ فجر کے وقت دی جاتی تھی اور یہ پہلا موقع ہے جب کسی کو عشاء کی نماز کے بعد پھانسی دی گئی ہے۔

اہلکار کے مطابق نئے قواعد کے تحت اب پھانسی کے لیے ہفتے میں مخصوص دنوں کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے اور اب کسی بھی دن مجرم کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔

اس سے قبل یہ عمل منگل، بدھ اور جمعرات کو سرانجام دیا جاتا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق حکام نے مزید کئی شدت پسندوں کے ڈیتھ وارنٹ بھی جاری کر دیے ہیں جنھیں آئندہ ہفتے کے دوران پھانسی دی جا سکتی ہے۔

جمعے کی شام پھانسی دیے جانے سے قبل دونوں شدت پسندوں عقیل اور ارشد محمود کو فیصل آباد کی مرکزی جیل سے ضلعی جیل منتقل کیا گیا اور اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

شدت پسندوں کے ممکنہ ردعمل کے تناظر میں ان دونوں جیلوں کے علاوہ شہر کی اہم سرکاری عمارتوں کی سکیورٹی بھی فوج کے حوالے کر دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے دہشت گردوں کی سزائے موت پر عملدرآمد کی بحالی کا اعلان پشاور میں طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 141 افراد کی ہلاکت کے بعد کیا تھا۔

وزیر اعظم کی جانب سے اس اعلان کے بعد بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کورٹ مارشل میں سزائے موت پانے والے چھ شدت پسندوں کی سزا پر عمل درآمد کی منظوری دی تھی۔

عقیل اور ارشد کون تھے؟

جن دو شدت پسندوں کو پھانسی دی گئی ان میں سے پنجاب کی تحصیل کہوٹہ کے رہائشی محمد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کی عمر تقریباً 35 برس تھی اور وہ پاکستانی فوج کا سابق ملازم تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پھانسی فیصل آباد کی مرکزی جیل میں دی گئی

عقیل کو اکتوبر 2009 میں راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے صدر دفتر پر حملے کا منصوبہ ساز اور سرغنہ سمجھا جاتا تھا اور اسی معاملے میں فوجی عدالت نے اسے 2011 میں سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔

فوجی حکام کے مطابق محمد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان جی ایچ کیو پر حملے سے قبل لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملے میں براہ راست شامل تھا۔

اس کے علاوہ اس کا نام سابق صدر پرویز مشرف اور اسلام آباد کے میریئٹ ہوٹل میں ہونے والے بم دھماکوں کی تفتیش کے دوران بھی سامنے آیا تھا۔

محمد عقیل کی عرفیت ڈاکٹر عثمان کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ پاکستانی فوج کی میڈیکل کور میں بطور سول ملازم کام کر چکا ہے۔

جی ایچ کیو حملے کے وقت پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ عقیل نے 1989 میں فوج میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم سنہ 2004 میں وہ ’بھگوڑا‘ ہوگیا تھا یعنی فوج چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔

جی ایچ کیو حملے کے دوران عقیل نے دروازوں میں بارودی سرنگیں نصب کر کے پانچ کمانڈوز کو ہلاک کیا تھا اور انھیں شدید زخمی ہونے کے بعد بیہوشی کی حالت میں حراست میں لیا گیا تھا۔

دوسرا شدت پسند ارشد محمود بھی سابق فوجی تھا اور 25 دسمبر 2003 کو سابق فوجی صدر پریز مشرف پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں ملوث تھا جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ارشد کے علاوہ اس حملے کے جرم میں پانچ دیگر افراد کو بھی سزائے موت سنائی گئی ہے جن میں ایک روسی اور چار پاکستانی شہری ہیں۔

وزارتِ داخلہ نے ابتدائی طور پر دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے جن 17 افراد کو پھانسی دینے کا اعلان کیا ہے ان میں یہ پانچوں بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں