قومی لائحہ عمل کی تیاری کے لیے ورکنگ گروپ کی تشکیل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ حکومت سے دہشت گردی کے موجودہ قوانین پر نظرِ ثانی کرنے کے لیے کہا جائے گا۔

سیاسی قیادت کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف قومی لائحہ عمل تشکیل دینے کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے ایک ورکنگ گروپ بنانے کی منظوری دی ہے۔

یہ فیصلہ جمعے کو وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کی سربراہی میں کمیٹی کے پہلے اجلاس میں ہوا۔

یہ ورکنگ گروپ خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سابق ملازم ماہرین پر مشتمل ہو گا اور پارلیمانی کمیٹی اس کی تجاویز کی روشنی میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سفارشات مرتب کرےگی۔

اس کمیٹی کو سات دن میں دہشت گردی کے خلاف نیشنل لائن آف ایکشن تیار کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق کمیٹی کی جانب سے تشکیل دیا جانے والا ورکنگ گروپ پشاور میں پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کی تجاویز، وزیراعظم کے جی ایچ کیو میں اجلاس اور نیشنل ایکشن پلان کمیٹی کے اجلاس کی روشنی میں سفارشات مرتب کرے گا جو پیر کو کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق کمیٹی کے پہلے اجلاس میں ذرائع ابلاغ سے بھی دہشت گردی کے واقعات کی کوریج میں احتیاط برتنے اور دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کی تشہیر نہ کرنے کو کہا گیا۔

اجلاس کے بعد جمعے کو رات گئے کمیٹی کے رکن اور سینیئر پارلیمنٹیریئن افراسیاب خٹک نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی کوئی پالیسی یا قانون نہیں بنائےگی بلکہ اس کا مقصد لائحۂ عمل کی تیاری ہے جو ایک ہفتے کے اندر تیار کر لیا جائے گا۔

ادھر پاکستان کے چیف جسٹس نے بھی انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کے لیے اہم اجلاس چوبیس دسمبر کو طلب کر لیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں اسلام آباد اور چاروں صوبوں کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان شریک ہوں گے۔

اس کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو مانیٹر کرنے والے ججوں کو بھی اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات میں اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں اور 23 دسمبر تک سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس میں رپورٹ جمع کروائیں۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سول اور فوجی قیادت نے دہشت کے خلاف سخت اقدامات کرنے اور عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو جلد نمٹانے پر اتفاق کیا تھا۔

اسی بارے میں