ایف آئی آر پر پیش رفت نہ ہونے کے خلاف احتجاج

Image caption ’اب وقت آ گیا ہے کہ جو قاتل ہیں انھیں نام سے پہچاننے کی ضرورت ہے‘

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سول سوسائٹی نے لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اور ان کے چار ساتھیوں کے خلاف مقدمے کے اندراج کے باوجود پیش رفت نہ ہونے کے خلاف احتجاج کیا۔

سماجی کارکنوں کی جانب سے گذشتہ رات مولانا عبدالعزیز کی طرف سے انہیں دھمکائے جانے پر دفعہ 506 کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

اس مظاہرے کے منتظم سماجی کارکن جبران ناصر نے اس ایف آئی آر کی کاپی میڈیا کے سامنے لاتے ہوئے کہا کہ ’آج سے سول سوسائٹی کے لیے وہ مولانا عبدالعزیز نہیں بلکہ ملزم عبدالعزیز ہے۔ یہ وہ ایف آئی آر ہے جس کے کاٹے جانے پر انویسٹی گیشن آفیسر کی جانب سے مدعیوں کو فون آنا چاہیے تھا۔ مگر کسی نے اب تک رابطہ نہیں کیا۔‘

جبران ناصر نے مزید کہا کہ وہ ’حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ لال مسجد کے سامنے خالی پلاٹ میں پشاور میں مرنے والوں کے نام ایک میموریل بنایا جائے جس پر ایک ایک ہلاک ہونے والے بچے اور شخص کا نام درج ہو تاکہ لال مسجد کے اندر اور باہر آنے جانے والے اسے دیکھیں اور انہیں احساس ہو کہ پاکستان کے بچے مرے ہیں۔‘

احتجاج میں شامل طبیعات کے ماہر اور سکالر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ جو قاتل ہیں انھیں نام سے پہچاننے کی ضرورت ہے۔ تحریک طالبان ہمارے بچوں کے قاتل ہیں اس لیے اب ہمیں وہ لوگ برداشت نہیں جو ایسے حملوں پر کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتہ کہ کس نے کیا ہے‘

دوسری جانب وفاق المدارس کے کارکنان جن میں بچے بھی شامل تھے نے پشاور میں سکول پر طالبان کے حملے کے خلاف مظاہرہ کیا۔

وفاق المدارس کی جانب سے یہ واضح کیا گیا کہ وہ سول سوسائٹی کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پشاور سانحے کے بعد ’مدارس کے خلاف ان کی جانب سے جو پروپیگینڈا شروع کیا گیا ہے اسے بند کیا جائے‘۔

بچوں اور کارکنان نے پلے کارڈز پکڑے ہوئے تھے جن میں سے کچھ پر ’پشاور حملے کی مذمت منجانب وفاق المدارس‘ اور ساتھ ہی بہت سے پلے کارڈز پر پیغام درج تھا کہ ’پشاور حملے کے بعد مدارس کے خلاف شروع کیا گیا پروپیگینڈا بند کیا جائے‘۔

اسی بارے میں