’پاک افغان سرحد پر مربوط کارروائیاں کرنے پر اتفاق‘

Image caption سرتاج عزیز نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے حکام اگلے دو ہفتوں کے اندر ملاقات کریں گے جس میں سرحدوں کی مؤثر نگرانی کے لیے ضروری اقدامات پر غور کیا جائے گا

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کے خارجہ امور کے متعلق مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان نے اپنے اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف مربوط کارروائیاں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے نہیں دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی سرحد دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

سرتاج عزیز نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے حکام اگلے دو ہفتوں کے اندر ملاقات کریں گے جس میں سرحدوں کی مؤثر نگرانی کے لیے ضروری اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ’اگر پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کسی کارروائی کا تعلق افغانستان سے نکلتا ہے تو انھیں رسائی دینا ہوگی اور وہ اس کے لیے تیار ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی سرزمین سے طالبان کے لیے تعاون کو روکنے کی کوشش کریں گے۔

’جس طرح خیبر ایجنسی میں آپریشن ہو رہا ہے اور اگر ان کے لیے افغانستان سے کمک آتی ہے تو افغانستان کی حکومت انھیں روکے گی۔‘

’اسی طرح اگر کنڑ اور ہلمند میں کوئی کارروائی ہوتی ہے اور افغانستان کی حکومت ان کے خلاف آپریشن کرتے ہیں تو ایسے میں ہم اس طرف سے بھی کارروائی کریں گے۔‘

سرتاج عزیز نے کہا کہ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے سرحدوں سے متعلق اصول و ضوابط تقریباً حتمی مراحل میں ہیں۔

’بہت جلد دونوں ممالک کی فوجی قیادت کی ملاقات میں یہ طے کر لیے جائیں گے۔ اس سے سرحد کے دونوں اطراف غیر قانونی نقل و حمل کافی حد تک رک جائے گی۔‘