سماجی کارکنوں کی درخواست پر لال مسجد کے خطیب پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عبدالعزیز نے ایک ٹی وی پروگرام میں پشاور میں طالبان کے حملے میں بچوں کی ہلاکت کی مذمت سے انکار کر دیا تھا

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے سماجی کارکنوں کی درخواست پر لال مسجد کے خطیب عبدالعزیز اور ان کے محافظوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

یہ مقدمہ جمعے کو رات گئے اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں سول سوسائٹی کے رکن سید نعیم بخاری کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

سول سوسائٹی کے ارکان جمعرات سے لال مسجد کے خطیب کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں اور ان کا عبدالعزیز سے مطالبہ ہے کہ وہ پشاور میں سکول پر حملہ کرنے والے طالبان کی مذمت کریں۔

پہلے دن کے برعکس جمعے کو پولیس نے مظاہرین کو مسجد کے سامنے احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی اور اس سڑک کو قناتیں لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔

اس پر مظاہرین نے مسجد کے احاطے سے متصل سڑک پر احتجاج کیا۔ مظاہرے کے شرکا لال مسجد کو کھولنے، خطیب عبدالعزیز کوگرفتار کرنے اور طالبان کے حامیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے مطالبات دہراتے رہے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ذرائع ابلاغ کو متنبہ کیا وہ طالبان کے حامیوں کو پروگراموں میں شریک نہ کریں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو میڈیا کا بائیکاٹ کر دیا جائے گا۔

اس مظاہرے میں سول سوسائٹی کے افراد کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، تحریکِ انصاف اور بلوچ نیشنل پارٹی جیسی سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی شریک ہوئے۔

۔مظاہرے میں شریک سینیٹر طاہر اللہ مشہدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’حکمرانوں کے چہروں پر نہیں ، پیٹ میں داڑھیاں ہیں۔ وہ بیان بھی دیتے ہیں تو طالبان کا نام نہیں لیتے کیونکہ وہ ڈرتے ہیں۔ طالبان ہمارے بچوں کے دشمن ہیں۔ اگر حکومت میں تھوڑی سی بھی غیرت ہے تو 132 مجرموں کو پشاور میں مرنے والے ایک ایک بچے کے لیے سرعام پھانسی دی جائے۔‘

اسی احتجاج کے دوران مظاہرے کے منتظمین نے لال مسجد سے متعلقہ شہدا فاؤنڈیشن کا ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں انھیں خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

اس بیان کے سامنے آنے کے بعد مظاہرے کے شرکا نے آبپارہ تھانے کا رخ کیا اور وہاں لال مسجد کے خطیب اور ان کے محافظوں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکی دیے جانے اور کالعدم طالبان کی حمایت کرنے پر ایف آئی آر درج کروانے کے لیے درخواست دی۔

مظاہرے کے منتظم جبران ناصر نے اس بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ ابتدا میں پولیس نے درخواست تو لے لی لیکن یہ کہتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا کہ ’ان پر بہت دباؤ ہے۔‘

اس پر مظاہرے کے شرکا نے آبپارہ تھانے کے باہر دھرنا دے دیا اور اس وقت تک وہاں سے نہ اٹھنے کا اعلان کیا جب تک ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسلام آباد کے مرکزی علاقے میں واقع لال مسجد میں موجود شدت پسندوں کے خلاف مشرف دور میں فوجی آپریشن کیا گیا تھا

تقریباً چار گھنٹے کے دھرنے کے بعد جمعے کو رات گئے پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی۔ کے اس کی کاپی جبران ناصر اور ان کے ساتھیوں کے حوالے کی۔

جبران نے بعد ازاں بی بی سی بات کرتے ہوئے اس کارروائی کو کامیاب احتجاجی کارروائی قرار دیا اور کہا ایف آئی آر درج ہونا عوام کی جیت کا پہلا قدم ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’جس مسجد میں ہمارے بچوں کے پیدا ہونے پر دعا کی جاتی ہے اور بڑوں کے مرنے پر جنازے پڑھائے جاتے ہیں وہ مساجد ہماری روزمرہ زندگی کا اہم ترین حصہ ہیں اور وہاں اس مظاہرے کا مقصد محض لوگوں کو اکٹھا کرنا نہیں بلکہ ، حکومت کو اس بات کا احساس دلانا ہے کہ اب ہم اپنی مسجدوں میں طالبان کے حمایتیوں اور انہیں فنڈ کرنے والوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ ہمیں اپنی مسجدوں کو ایسے افراد سے واپس لینا ہے ۔ ‘

خیال رہے کہ لال مسجد کے سامنے احتجاج کرنے پر مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے جمعرات کو سول سوسائٹی کے کارکنان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی جس میں مظاہرین پر مسجد کا گھیراؤ کرنے اور سڑک بند کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔