عدم برداشت صرف طالبان یا تمام شدت پسندوں کے لیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وزیر اعظم نواز شریف نے بیان میں ’اچھے اور برے طالبان‘ کی بات کی ہے اچھے یا برے شدت پسندوں کی نہیں

پاکستان کے شہر میں پشاور میں ایک فوجی سکول پر حملے کے بعد عوامی غم و غصہ اور بحث طالبان کے گرد گھوم رہی ہے۔

ہر کوئی انھیں گلیوں میں پھانسی دینے اور عبرت کا نشان بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

حکومت بھی اچھے اور برے طالبان کی تمیز ختم کرنے کا اعلان کر رہی ہے۔ لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ اس تمام گفتگو کا محور محض طالبان تک محدود ہے یا اس سے مراد القاعدہ، حقانی نیٹ ورک اور بھارت مخالف شدت پسند تنظیمیں بھی ہیں یا نہیں؟ کیا ان پر بھی’عدم برداشت‘ کی پالیسی کا اطلاق ہوگا یا نہیں۔

آرمی بپلک سکول میں تقریبا ڈیڑھ سو طلبہ اور اساتذہ کے قتل عام کی وجہ سے جو نفرت اور غصہ اس وقت عوام، حکومت اور فوجی سطح پر دیکھا جا رہا ہے اس کے نتیجے میں شاید القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک بھی اب اپنے آپ کو یتیم تصور کرنے لگیں لیکن کیا شدت پسندی کے خلاف یہ نفرت اور غصہ کیا بھارت مخالف شدت پسند تنظیموں کے لیے بھی اختتام کی نوید ثابت ہوگی کہ نہیں۔

بھارت کے ساتھ حالیہ سرحدی کشیدگی کے بعد جماعت الدعوۃ نے اس اکتوبر میں کراچی میں ایک اجتماع میں حکومت سے ہندوستان کے خلاف ’جہاد‘ کے اعلان کا تقاضہ کیا۔ جماعت کے رہنما اور امریکہ کو مطلوب حافظ سعید نے بھی ایک بیان میں بھارت کو پشاور حملے میں ملوث کر کے اس سے بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب جان بوجھ کر تو شاید نہیں لیکن حادثاتی طور پر اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کی جانب سے چھ سال میں پہلی مرتبہ اچانک ممبئی حملہ سازش کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمان لکھوی کی ضمانت کی منظوری نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ اب حکومت نے انھیں دوبارہ حراست میں لیتے ہوئے اڈیالہ جیل میں ہی نظر بند کر دیا ہے۔ ذکی الرحمان اس مقدمے کے سات ملزمان میں سے پہلے ملزم ہیں جن کی ضمانت منظور کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جماعت الدعوۃ کے رہنما حافظ سعید نے بھی ایک بیان میں بھارت کو پشاور حملے میں ملوث کرکے اس سے بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا

اس عدالتی فیصلے کا وقت شاید اس سے برا نہ ہو۔ جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ جیسے گروپوں کی جانب حکومت کا رویہ ماضی میں مبینہ طور پر ہمیشہ نرم رہا تھا۔ انھیں پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ بھارت پر دباؤ کے لیے استعمال کرتی رہی تاکہ وہ دہلی کو پاکستان ’توڑنے کی سازشوں/ منصوبوں‘ سے باز رکھ سکے اور مذاکرات کی میز پر لا سکے۔

تبصرہ نگار اس پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں دیکھ رہے ہیں۔ جزوی سرجری کارآمد نہیں ثابت ہوگی۔ سکیورٹی اسٹبلشمنٹ عوام کو اعتماد میں لے کر کھل کر ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرے اور مستقبل میں ایسا نہ کرنے کا عزم کرے۔ اس سے ہی اعتماد بحال ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے بیان میں’اچھے اور برے طالبان‘ کی بات کی ہے اچھے یا برے شدت پسندوں کی نہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے بقول یہ اعلان ایک ایسے وزیر اعظم نے کیا ہے جو کہ ملکی پالیسی نہیں چلا رہے ہیں۔ وہ کنٹرول میں نہیں ہیں۔ کوئی سیاسی حکومت کبھی کنٹرول میں نہیں رہی ہے۔

اب جب کہ شدت پسندی نے خارجہ پالیسی کے آلے کے طور پر فائدے سے زیادہ نقصان دیا، سُکھ سے زیادہ دُکھ دیا تو عوام کی اکثریت حکمرانوں کی جانب سے آخری مرتبہ واضح اور دو ٹوک بات کی توقع کر رہی ہے۔

ان کا مطالبہ اور امید ہے کہ بدلے اور انتقام کی تڑپ صرف چنیدہ شدت پسندوں کو نشانہ نہ بنائے بلکہ ایسا تفصیلی جھاڑو پھیرا جائے کہ ملکِ پاکستان درست معنوں میں اس مسئلے سے ہمیشہ کے لیے پاک ہو جائے۔ لیکن آنے والے دن بدقسمتی سے پرتشدد کارروائیوں میں اضافے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ پاکستان حکومت اور طالبان کے درمیان پشاور سکول حملے کے بعد نئے راؤنڈ کا آغاز اور دوسرا افغانستان سے غیر ملکی افواج کی روانگی ہیں۔

ایسے میں حکومت مغربی سرحد پر ہی ابتدا میں تمام تر توجہ دی گی لیکن اس کے بعد ماہرین دوسرے راؤنڈ کی بھی تکرار کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ عوام کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چھ سال میں پہلی مرتبہ اچانک ممبئی حملہ سازش کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمان لکھوی کی ضمانت کی منظوری نے سب کو حیرت میں ڈال دیا

اسی بارے میں