دکھ بہت زیادہ، مگر عزم بھی کم نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عندلیب آفتاب آرمی پبلک سکول میں پڑھاتی ہیں جہاں ان کا بیٹا طالبان کی گولیوں کا نشانہ بنا

طالبان کے ہاتھوں پشاور کے آرمی پبلک سکول کے بچوں کے قتل عام کے بعد ہلاک اور زخمی کیے جانے والے بچے اور ان کے خاندان کے افراد مختلف قسم کے جذبات سے گزر رہے ہیں۔

یہ جاننے کے لیے کہ اس سکول میں قتل عام ہوا ہے، آپ کو سکول کے آڈیٹوریم میں جا کر اس کے در ودیوار پر جمے ہوئے بے شمار خون کو بھی دیکھنے کی ضرورت نہیں۔

آپ جیسے ہی سکول میں داخل ہوتے ہیں آپ کو خون کی بدبو اور وہاں سکتے کے عالم میں کھڑے والدین کے چہرے اور اپنے بچوں کی چیزوں کو گھورتی ہوئی آنکھیں یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ گذشتہ منگل یہاں کتنی بڑی تباہی پھیلائی گئی تھی۔

سکول کے ہال میں کرسیوں اور ڈیسکوں کی ہر ایک قطار اسی بربریت کی کہانی سنا رہی ہے۔ جدھر نظر اٹھتی ہے آپ کو خون آلود کتابیں، گولیوں کی بوچھاڑ سے فرار ہونے کی کوشش میں پاؤں سے نکل جانے والے بچوں کے جوتے اور بکھرے ہوئے خون کے دھبوں والے کاغذ دکھائی دیتے ہیں جن پر بچوں نے اپنا ہوم ورک کیا ہوا ہے۔

یہی وہ ہال ہے جہاں طالبان بندقوق برداروں نے دھاوا بول کر ایک سو سے زیادہ طلبا پر قریب سے گولیاں برسائی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے کے بعد پشاور کی سڑکوں پر سیکورٹی اہلکار اور سہمے ہوئے بچے دکھائی دیے

جب جنگجوؤں نے حملہ کیا، اس وقت طلبا کی ایک بڑی تعداد اسی ہال میں جمع تھی جہاں انھیں ابتدائی طبی امداد کے بارے میں بتایا جا رہا تھا۔ اس ہال کے ایک کونے میں آپ کو کسی شے کے جلائے جانے کے بھی نشانات دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں دہشت گردوں نے ایک استانی کو زندہ جلا دیا۔

جب میں لیڈی رڈنگ ہسپتال پہنچی تو میں نے دیکھا کہ بچوں کے والدین اور لواحقین کی ایک بڑی تعداد دیوار پر لگی ہوئی اس فہرست تک پہنچے کی کوشش کر رہے تھی جہاں حملے میں زخمی یا ہلاک ہونے والوں کے نام درج تھے۔

جوں جوں دن گزرتا گیا دیوار پر لگی ہوئی فہرست طویل ہوتی گئی اور وہاں پر کھڑے ہجوم میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ ہر کوئی یہ جاننے کے لیے بے چین تھا کہ ان کے پیاروں کا کیا بنا۔

ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں میری ملاقات 13 سالہ سعید کے ساتھ ہوئی۔ اس کے گھر والے بستر کے ساتھ ایک بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے۔

سعید ابھی تک سنبھل نہیں پایا تھا اور جو اس نے دیکھا اس کے بارے میں بات نہیں کر پا رہا تھا۔

سعید کی والدہ کا نام ناہیدہ ہے اور وہ آرمی پبلک سکول میں ہی پڑھاتی ہیں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ جوں ہی حملہ ہوا سعید ایک کرسی کے نیچھے چھپ گیا اور وہاں سے انھوں فون کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکول کا گیٹ ایک مزار کا منظر پیش کر رہا ہے

’مجھے ایک ایک آواز صاف سنائی دی رہی تھی۔ میرے بیٹے نے کہا ’مجھےگولی لگ گئی ہے، آئیں اور مجھے یہاں سے نکالیں۔‘ لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں اس تک کیسے پہنچوں۔ میں بتا نہیں سکتی میری کیا حالت تھی۔‘

آنسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ سعید کی والدہ نے کہا: ’اللہ کا شکر ہے کہ میرا بیٹا میرے پاس ہے۔‘

لیکن بہت سے والدین ایسے ہیں جنھیں اب اس حقیقت کو قبول کرنا ہے کہ ان کے پیارے اب واپس نہیں آئیں گے۔

ان والدین میں اس 14 سالہ عبداللہ کے گھر والے بھی شامل ہیں جسے حملہ آوروں نے چہرے پر گولی مار کر ہلاک کیا۔

جب میں اعوان برادری کے قبرستان پہنچی تو میں نے دیکھا کہ خواتین عبداللہ کی میت کے گرد جمع ہیں۔ اگرچہ اس کی میت کو ایک کھلے تابوت میں رکھا گیا تھا اور اس کی میت پر بے شمار پھول پڑے ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود میں اس کے چہرے پر گولی کا نشان دیکھ سکتی تھی۔

میت کے قریب زمین پر بیٹھی ہوئی عبداللہ کی والدہ نے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور اس کی پیشانی سے مٹی ہٹاتے ہوئے رو رہی تھیں۔

عبداللہ کے گھرانے اور اس کی عزیز واقارب خواتین دھاڑیں مار مار کے رو رہی تھیں اور قریب کھڑے بچے اپنی حیرت بھری آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔

دوسری جانب مقامی قبرستان میں عبداللہ کے مرد رشتے دار تدفین سے پہلے قرآنی آیات پڑھ رہے تھے۔

اس کے انکل نے کہا: ’وہ بہرتین طالبعلم تھا۔

’اسے پرندے بہت پسند تھے۔ گھر پر بھی اس نے پرندوں کا ایک جوڑا رکھا ہوا تھا۔ ایک پرندے نے کچھ ہی دن پہلے انڈے دیے تھے۔ وہ دن گن رہا تھا کہ کب انڈوں سے چوزے نکلیں گے۔ لیکن اس سے پہلے وہ خود ہی چلا گیا۔‘

جنازے کے بعد میں نے عبداللہ کے والد سے بھی بات کی۔

’وہ اب اللہ کے پاس پہنچ چکا ہے۔ مجھے اب صبر کرنا ہے۔ آج مجھے کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا۔ میرے سارے عزیز، رشتے دار میرے ساتھ ہیں اور ہر کوئی مجھے حوصلہ دے رہا ہے۔ لیکن مجھے پتہ ہے کہ عبداللہ کی موت کا احساس مجھے آج رات ہو گا، جب یہ لوگ چلے جائیں گے اور میں اپنے بستر پر بالکل اکیلا ہوں گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’چھوٹے جنازے سب سے زیادہ بھاری جنازے ثابت ہوتے ہیں۔‘

منگل کے بعد ہر آنے والے دن میں سکول کے گیٹ پر جمع ہونے والے ہجوم میں اضافہ ہوتا گیا۔

بہت جلد ہی سکول کے گیٹ ایک مزار کا منظر پیش کر رہے ہیں جہاں جا بجا گلاب اور گیندے کے پھول، موم بتیاں اور مختلف پیغامات لکھے ہوئے پلے کارڈ پڑے ہوئے ہیں۔

ان کارڈوں پر لکھے ہوئے پیغامات میں دکھ کا اظہار بھی ہے اور مارے جانے والوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم بھی۔

’چھوٹے جنازے سب سے زیادہ بھاری جنازے ثابت ہوتے ہیں۔‘

’میرا بیٹا میرا خواب تھا۔ میرا خواب کو گولی مار کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘

قریب ہی آرمی پبلک سکول کے نوجوان طلبا کا ایک گروہ کھڑا تھا۔

یہ لوگ اپنا سکول یونیفارم پہنے ہوئے تھے۔

ایک سینیئر طالبعلم عاطف عظیم نے جو کوٹ پہنا ہوا تھا اس پر ابھی تک خون کے دھبے لگے ہوئے تھے۔

عاکف عظیم خود تو حملے میں بچ گئے لیکن انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اپنے کئی ساتھیوں کو گولیاں کھا کر زمین پر گرتے دیکھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’تم مجھ سے میرے دوست چھین سکتے ہو، لیکن میں سکول واپس جاؤں گا۔‘

’میں ایک جنازے سے دوسرے جنازے میں جا رہا ہے۔میں دو دن سے نہیں سو پایا۔‘

میں نے پوچھا کہ یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد وہ دوبارہ سکول جا پائیں گے؟

’اسی لیے تو میں آج یونیفارم پہن کر یہاں آیا ہوں۔

’جنھوں نے یہ حملہ کیا ان کے لیے یہ ایک پیغام ہے۔ تم مجھ سے میرے دوست چھین سکتے ہو۔ تم مجھ سے میرے استاد چھین سکتے ہو۔لیکن میں آج بھی اپنا یونیفارم پہنے یہاں کھڑا ہوں۔ میں سکول واپس جاؤں گا۔‘

اسی بارے میں