ایم کیو ایم کا بھی لال مسجد کے خطیب پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لال مسجد کے خطیب نے اپنے ویڈیو پیغام میں الطاف حسین کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت زبان استعمال کی تھی

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے اسلام آباد میں واقع لال مسجد کے خطیب عبدالعزیز کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کروا دیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ مقدمہ کراچی کے عزیز آباد تھانے میں درج کروایا گیا ہے اور اس میں سائبر کرائم اور اشتعال انگیزی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

اتوار کو مقدمے کے اندراج کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن قمر منصور نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ان کی جماعت نے تشدد کا جواب تشدد سے دینے کی بجائے قانون کا سہارا لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالعزیز نے اپنے ویڈیو پیغام میں نہ صرف مذہبی منافرت پھیلائی بلکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو جان سے بھی مارنے کی دھمکی دی۔

قمر منصور نے یہ بھی کہا کہ لال مسجد والوں نے اسلام آباد میں سول سوسائٹی کے مظاہرے کو صرف شیعہ افراد کا مظاہرہ قرار دے کر مذہبی منافرت پھیلائی۔

انھوں نے فوج سے اپیل کی وہ طالبان اور دہشت گردوں کے حامی عناصر کے خلاف بھی کارروائی کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسلام آباد میں سماجی کارکن بھی لال مسجد کے خطیب کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں

خیال رہے کہ الطاف حسین نے جمعے کو پشاور میں طلبا کی ہلاکت کے خلاف کراچی میں نکالی جانے والی ایک ریلی سے خطاب میں لال مسجد کے خطیب کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کے جواب میں سنیچر کو سوشل میڈیا پر خطیب عبدالعزیز کی ایک ویڈیو شائع کی گئی تھی جس میں الطاف حسین کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی تھی۔

لال مسجد کے خطیب کی جانب سے پشاور میں طالبان کے حملے کی مذمت نہ کیے جانے کے معاملے پر اسلام آباد میں سول سوسائٹی بھی تین دن سے احتجاج کر رہی ہے۔

اسی احتجاج کے دوران مظاہرین کو لال مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے ایک پیغام کے ذریعے دھمکی دیے جانے پر اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں خطیب عبدالعزیز کے خلاف دفعہ 506 کے تحت ایک اور مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔

سنیچر کو سول سوسائٹی نے عبدالعزیز اور ان کے چار ساتھیوں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے باوجود مقدمے میں پیش رفت نہ ہونے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

اسی بارے میں