’آئندہ ہفتوں میں 500 موت کی سزاؤں پر عملدرآمد ہو گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزیرِ داخلہ نے عوام سے بار بار درخواست کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے کہا ہے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس وقت کے قومی مُوڈ کو قومی ایکشن میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سزائے موت پر عملدرآمد کے بارے میں کہا کہ سزائے موت پر لگی پابندی ختم کرنے کا فیصلہ ڈھائی ہفتے قبل ہوا تھا۔

’وزیر اعظم نے ڈھائی ہفتے قبل سزائے موت پر عملدرآمد پر لگی پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ تاہم پشاور حملے کے بعد اس پابندی کو فوری طور پر ختم کیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ تقریباً 500 مجرم ہیں جن کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں ان کی سزاؤں پر عملدرآمد آئندہ ایک دو ہفتے میں ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا ’پشاور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر جو اجلاس ہوا اس میں آرمی چیف نے درخواست کی تھی کہ ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کے بعد کا وقت کم کیا جائے۔ اس کو مان لیا گیا ہے۔‘

فوجی آپریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج عورتوں، بچوں اور عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر عورتوں بچوں کو نشانہ بنانا مقصود ہوتا یا ان کی حفاظت کی فکر نہ ہوتی تو جیٹ طیاروں کی بمباری سے میرانشاہ کو تباہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔

ملک میں میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ میڈیا کو ہر قسم کی تعمیری تنقید کی آزادی ہے لیکن دہشت گردوں کے عزائم کو پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی ہے اور اس ضمن میں ریڈ لائنز بنائی جا رہی ہیں جو میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا سے الگ ہو گی۔

وزیرِ داخلہ نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم کو یہ احساس کرنا چاہیے کہ اس وقت ہم حالت جنگ میں ہیں اور یہ کوئی معمول کی جنگ نہیں ہے جس وجہ سے اس کی اپنی ضروریات ہیں۔

’آپ کے دشمن، ان کے ہمددر اور انھیں تحفظ دینے والے ملک کے اندر ہیں، ہمارے اور ان کے رنگوں اور چہروں میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ ہمارے اندر ہیں، ہماری فوج کئی سالوں سے یہ جنگ لڑ رہی ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب کو اس میں حصہ ڈالنا ہو گا۔‘

وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف اس وقت کے قومی موڈ کو قومی ایکشن میں تبدیل ہونا چاہیے اور ایک حساب (لحاظ) سے یہ ہو چکا ہے جس میں ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اپنے ذاتی اختلافات بھلا ایک میز پر آ چکی ہیں۔‘

وزیر داخلہ نے شہریوں کو مشکوک افراد پر نظر رکھنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں کو شہریوں سے بہتر کوئی مدد فراہم نہیں کر سکتا ہے۔

چوہدری نثار علی نے مزید کہا کہ اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کے پولیس سربراہان کو ہدایت کی گئی ہیں کہ ضلعی پولیس افسران اپنے اپنے علاقوں کے احساس مقامات پر شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کریں اور یہ کارروائیاں چند روز تک نہیں بلکہ مسلسل جاری رہنا چاہیے جب تک ہماری افواج دوسری کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

وزیر داخلہ نے ملک میں قائم ہزاروں دینی مدارس پر ہونے والی تنقید کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت 90 فیصد سے زیادہ مدارس کا کسی قسم کی دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ جو مدرسے میں پڑھتا ہے وہ دہشت گرد ہے۔

نیوز کانفرس کے دوران ایک صحافی نے وزیر داخلہ سے سوال کیا کہ طویل کانفرنس میں ان کی جانب سے ایک بار بھی طالبان کا نام استعمال نہیں گیا تو اس پر وزیر داخلہ نے کہا:’جو بھی مدرسے کا طالب ہوتا ہے وہ طالب ہوتا ہے اور ہر طالب دہشت گرد نہیں اور جو طالب دہشت گرد ہے وہ ہمارا دشمن ہے اور ہم اس کے دشمن ہیں۔‘

اسی بارے میں