کراچی میں پولیس مقابلہ، القاعدہ اور طالبان کے 13 شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں غیر ملکی بھی شامل ہیں: پولیس

پاکستان کے تجارتی شہر کراچی کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سہراب گوٹھ کے قریب ایک مکان پر کارروائی میں 13 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو کے مطابق ان افراد کا تعلق کالعدم تحریکِ طالبان کے خان زمان گروپ سے تھا۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس کو اطلاع ملی کہ ایک گھر میں یہ افراد دہشت گردی اور خودکُش حملوں کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

اطلاع ملنے پر پولیس نے ایس ایس پی راؤ انوار کی سربراہی میں وہاں چھاپہ مارا جہاں فائرنگ کے تبادلے میں 13 دہشت گرد مارے گئے اور ایک کو گرفتار کر لیا گیا۔

غلام قادر تھیبو کے مطابق گرفتار ہونے والا شخص خودکش بمبار ہے اور اس کے پاس سے خودکش جیکٹ بھی ملی ہے۔

ان کے مطابق ہلاک شدہ افراد کے پاس سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی نے مزید بتایا کہ مرنے والے افراد کی شکلوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق پشتون علاقوں سے ہے تاہم ابھی ان کی شناخت کے بارے میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

اس کارروائی میں چند پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق اس علاقے میں پہلے بھی طالبان کے گروہوں کی نقل و حرکت ہوتی رہی تھی جس کا خاتمہ کیا گیا تھا تاہم اب یہ لوگ دوبارہ اس علاقے میں منظم ہونے کی کوشس کررہے تھے۔

غلام قادر تھیبو کے مطابق کراچی میں ضلع ملیر میں طالبان کی موجودگی کی اطلاعات ہیں اور ضلع غربی کے منگھو پیر اور کنواری کالونی کے علاقے میں بھی جہاں پشتون آبادی زیادہ ہے وہیں انھیں آسانی سے پناہ بھی مل جاتی ہے۔

اس سے قبل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے بی بی سی کے نامہ نگار عبداللہ فارقی کو بتایا تھا کہ ایک مخبر کی اطلاع پر سہراب گوٹھ کے قریب ڈیلیکس ٹاؤن کے علاقے میں چھاپا مارا گیا۔

ایس ایس پی راؤ انوار کے مطابق ہلاک شدگان میں سے 11 کا تعلق پاکستان تحریک طالبان اور دو کا القاعدہ سے ہے۔

’ ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق وزیرستان سے ہے جبکہ غیر ملکیوں میں برما کے باشندے بھی شامل ہیں۔‘

یاد رہے کہ 16 دسمبر کو پشاور سانحے کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں شدت پسندوں اور ان کے حامیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کاروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

وزیرداخلہ کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے بعد سے اب تک حکومت نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر 4000 سے زائد کارروائیاں کروائی ہیں۔

19 دسمبر کو بھی رینجرز نے کراچی کے علاقے مشرف کالونی میں ہاؤنسلو روڈ پر آپریشن کے دوران تحریکِ طالبان کے مقامی کمانڈر سمیت 4 شدت پسندوں کو ہلاک کیا تھا۔

اسی بارے میں