’لال مسجد احتجاج جاری رہے گا‘

مولانا عبدالعزیز تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption طالبان کے ایک دھڑے نے مولانا کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو دھمکی دی ہے

حال ہی میں پشاور میں آرمی سکول پر حملے اور اُس کے بعد اسلام آباد میں واقع لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کی جانب سے طالبان کی حمایت کے بعد اسلام آباد کی سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

مولانا عبدالعزیز کی جانب سے احتجاج کرنے والے اِن افراد کو دھمکی دیے جانے کے بعد اب سول سوسائٹی ممبران آبپارہ پولیس سٹیشن کے باہر احتجاج کر رہے ہیں۔

دوسری طرف اِن احتجاجی مظاہروں کے منتظم جبران ناصر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں شدت پسند دھڑے جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نےمبینہ طور پر نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف مقدمہ درج کرانے سے باز رہیں۔

ٹیلیفون ریکارڈنگ میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ باز نہ آئے تو وہ خود اپنے آپ اور اپنے خاندان والوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

دھمکی کے جواب میں جبران ناصر کا کہنا تھا کہ احتجاج جاری رہے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ سب کے لیے موقع ہے کہ وہ اپنا موقف واضح کریں اور انھوں نے امن پسندوں کو اس مظاہرے میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے شہر کی انتظامیہ کو اس دھمکی کے بارے میں بتا دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اگر مظاہروں میں شریک ہونے والوں کو کچھ ہوا تو وہ انتظامیہ کو ہی ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔

جبران ناصر کے بقول انھوں نے شدت پسندوں کی جانب سے ملنے والی دھمکی سے نہ صرف حکام بلکہ مظاہرے میں شریک افراد کو بھی مطلع کر دیا ہے۔

دھمکی کے بعد احتجاجی مظاہروں کے ایک اور منتظم شان تاثیر کا مولانا عبدالعزیز کے خلاف ایف آئی آر کے بارے میں کہنا تھا کہ ان کا ارادہ مزید مضبوط ہوا ہے۔

احتجاجی مظاہروں کے اصل مقصد کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’بات دھمکی کی نہیں ہے، انھوں نے ڈیڑھ سو بچوں کو مار دیا ہے اصل بات یہ ہے اور اگر حکومت نے یہ موقع جانے دیا تو یہ ہمارے ملک کے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہو گا۔‘

اسی بارے میں