فوری پھانسیاں قانون کے پھندے میں آ گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سانحۂ پشاور کے بعد وزیرِ اعظم نواز شریف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی ختم کر دی تھی

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس ارشد تبسم نے دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت کے منتظر پانچ قیدیوں کی سزا پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

اس کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ نے سزائے موت کے دو مجرموں کے بلیک وارنٹ دوبارہ جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پیر کی شام کو وفاقی حکومت نے پانچ مجرموں کی پھانسیوں پر عمل درآمد روکنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کی طرف سے جاری کیے گئے حکم امتناعی کو چیلنج کر دیا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کی طرف سے دائر کی گئی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان پانچ مجرمان کو فروری2014 میں سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کرکے سات اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی عدالت ان پانچ مجرمان کی طرف سے دائر کی گئی اپیلیں جون 2014 کو مسترد کر چکی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں وفاقی حکومت کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت 24 دسمبر کو ہوگی۔

دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے مقدمات کی متحرک پیروی کیے جانے اور پھانسی پر عمل درآمد کے حوالے سے عدالتی حکمِ امتناعی کے جلد خاتمے کوشش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے متعلقہ حکام سے دہشت گردی کے مقدمات تیز تر بنیادوں پر چلانے کی ہدایت کی ہے اور حکومتی ترجمان نے بتایا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات اٹارنی جنرل اور قانونی ٹیم کو پہنچا دی گئی ہیں۔

وزیراعظم نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ سزائے موت کے خلاف حکم امتناعی کے خاتمے کے لیے تمام تر کوششیں کی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں، نوجوانوں اور بچوں کے قتل میں ملوث عناصر کے لیے کوئی رحم نہیں ہونا چاہیے۔

پھانسی پر عمل درآمد سے متعلق عدالتی حکمِ امتناعی

تصویر کے کاپی رائٹ LAHORE
Image caption ان قیدیوں کے وکلا انعام رحیم اور لئیق خان سواتی ایڈووکیٹ نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس ارشد تبسم نے دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت کے منتظر پانچ قیدیوں کی سزا پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

ان قیدیوں کے نام احسان عظیم، عمر ندیم، آصف ادریس، کامران اسلم اور عامر یوسف ہیں اور انھیں سنہ 2012 میں گجرات میں ایک فوجی کیمپ پر حملے کا مجرم قرار دیاگیا تھا۔

ان قیدیوں کے وکلا انعام رحیم اور لئیق خان سواتی ایڈووکیٹ نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔

انعام رحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ مجرم احسان عظیم اور ان کے بھائی نعمان عظیم کو جولائی سنہ 2013 میں واہ کینٹ سے زبردستی ان کے گھر سے اٹھایا گیا اور ان دونوں کا نام جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست میں شامل تھا، جس کے بعد عدالت نے راولپنڈی کی انتظامیہ کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ نعمان عظیم کو کچھ عرصے بعد رہا کر دیا گیا اور ان کی والدہ ساجدہ پروین سے کہا گیا کہ وہ اس ضمن میں دائر کی گئی درخواست واپس لے لیں۔

نعمان عظیم کی والدہ نے ایسا ہی کیا جس کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے احسان عظیم کے خلاف فوجی عدالتوں میں یک طرفہ کارروائی مکمل کرنے کے بعد انھیں موت کی سزا سنا دی گئی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس ارشد محمود تبسم نے پیر کو اس درخواست کی سماعت کی۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے ان قیدیوں کی چارج شیٹ جاری نہیں کی گئی اور نہ ہی شواہد کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمان کے خلاف خفیہ مقام پر مقدمہ چلانے کے بعد انھیں سزائے موت دی گئی جو قواعد کے منافی ہے۔

ان قیدیوں کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ان قیدیوں کے اہلِ خانہ کو اچانک کہا گیا کہ وہ جیل آ کر ان سے آخری ملاقات کر لیں کیونکہ انھیں پھانسی دی جا رہی ہے۔

اس پر عدالت نے گجرات حملے میں ملوث پانچ قیدیوں کی سزائے موت پر تا حکمِ ثانی عمل درآمد روک دیا۔

واضح رہے کہ یہ پانچوں قیدی کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید ہیں۔

17 دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے دوسرے روز وزیرِ اعظم نواز شریف نے سانحۂ پشاور کے بعد منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس سے قبل دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث دہشت گردوں کو دی جانے والی سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں جی ایچ کیو پر حملے کے مجرم محمد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے مجرم ارشد محمود سمیت چھ مجرمان کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

بلیک وارنٹ دوبارہ جاری کرنے کی ہدایت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اعظم خان اور عطااللہ پر سنہ 2000 میں ایرانیہ چائے کمپنی کے مالک کے قتل کا الزام تھا

سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو پر مشتمل ڈویژن بینچ نے دہشت گردی کے الزام میں سزا پانے والے مجرم عطااللہ اور اعظم خان کی درخواست پر ان کے خلاف بلیک وارنٹ کو غیر قانوی قرار دیتے ہوئے دوبارہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق بلیک وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ قانون کے مطابق بلیک وارنٹ کے اجرا کے کم سے کم سات دن اور زیادہ سے زیادہ 20 دن بعد پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کیا جاتا ہے، لیکن 19 دسمبر کو ان کے بلیک وارنٹ جاری ہوئے اور 23 دسمبر کو اس پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا جو خلاف قانون ہے۔ عدالت نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی کہ قانون کے مطابق بلیک وارنٹ دوبارہ جاری کیے جائیں۔

اعظم خان اور عطااللہ پر سنہ 2000 میں ایرانیہ چائے کمپنی کے مالک کے قتل کا الزام تھا اور ان دونوں کا تعلق فرقہ وارانہ شدت پسند گروہ سے ہے۔

اسی بارے میں