آرمی چیف کی افغان اور ایساف کمانڈروں کی ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ ispr
Image caption جنرل راحیل نے ٹی ٹی پی کے خلاف افغانستان میں کیے گئے آپریشن کی تعریف کی: آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغان اور بین لاقوامی افواج کے حکام کو پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف تعاون پر مبنی کارروائیوں میں ہر سطح پر اپنی حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان کے مطابق افغان نیشنل آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل شیر محمد کریمی نے افغانستان میں تعینات ایساف کے سربراہ جنرل جان کیمبیل کے ہمراہ جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا۔

اس موقعے پر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کی جانب سے حال ہی میں افغان سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کی تعریف کی۔

’جنرل راحیل شریف نے ہر سطح پر بشمول متعلقہ علاقوں میں تعاون پر مبنی کارروائیوں اور خفیہ معلومات کے تبادلے کے لیے افغان چیف آف جنرل سٹاف اور ایساف کمانڈر کو مکمل حمایت فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

جنرل کریمی اور جنرل جان کیمبیل نے پشاور میں دہشت گردی کے واقعے میں 133 بچوں سمیت 149 افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی فوجی قیادت کو یقین دہانی کروائی کہ دہشت گردی کے خاتمے اور افغان سرزمین سے شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے تعاون کیا جائے گا۔

پاک افغان اور ایساف کمانڈروں کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات میں آرمی چیف کے علاوہ ڈی جی آئی ایس پی آر اور دیگر اہم فوجی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ اس موقعے پر خطے کی مجموعی صورتِ حال، پاک افغان سرحدی تعاون اور سرحدی نظام کے بارے میں پروٹوکول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

افغان آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف اور ایساف کمانڈر نے تسلیم کیا کہ پاکستان کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف جاری بلاامتیاز کیے جانے والے آپریشن ضرب عضب سے شدت پسندوں کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

یاد رہے کہ 16 دسمبر کو پشاور کےآرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کے حملے کے اگلے روز ہی پاکستان کے آرمی چیف نے کابل کا ہنگامی دورہ کیا تھا اور افغانستان کی سول اور فوجی قیادت سے اہم ملاقات کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلاامتیاز فرقے،مذہب اور ذات ہر شہری کو تحفظ فراہم کریں گے، وزیراعظم

دوسری جانب وزیراعظم کی سربراہی میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس پی آر، ڈی جی ایم او، ایم آئی اور آئی ایس آئی کے علاوہ وفاقی وزیرخزانہ اور وفاقی وزیرداخلہ نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں آپریشن ضرب عضب اور آپریشن خیبر ون پر بات کی گئی اس کے علاوہ شدت پسندی اور انتہاپسندی کے خاتمے کےلیے قومی ایکشن پلان بھی زیر غور آیا۔

وزیراعظم نے ایک بار پھر کہا کہ شدت پسندوں اور ان کے حامیوں کے درمیان کوئی فرق روا نہیں رکھا جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت تمام شہریوں کو تحفظ فراہم کرے گی جس میں کسی فرقے، عقیدے اور ذات کی تمیز نہیں کی جائےگی۔

اس اجلاس میں ملک کے ہر کونے سے شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے فوری اور وسط نوعیت کے اقدامات کے علاوہ اور اتفاق رائے سے پاس ہونے والے ایکشن پلان کا فوری عمل درآمد بھی زیرغور آیا۔

اسی بارے میں