’مجرمان کی درخواستوں پر حکم امتناعی سمجھ سے باہر‘

Image caption ’فوجی عدالتوں کی طرف سے دیے جانے والے فیصلوں کو سپریم کورٹ میں ہی چیلنج کیا جا سکتا ہے‘

پاکستانی قوانین کے مطابق اگر کسی ملزم کو دہشت گردی، قتل، اغوا برائے تاوان کے الزام میں متعلقہ عدالتوں کی طرف سے موت کی سزا دی جائے تو وہ ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کر سکتا ہے۔

قانون کے مطابق عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کی طرف سے اگر مجرم کی اپیلیں مسترد ہو جائیں تو وہ صدر ملکت کے پاس رحم کی اپیل دائر کر سکتا ہے۔ اور اب یہ صدر پر ہوتا ہے کہ وہ مجرم کی سزا میں کمی کر دے یا اُس کو معاف کر دے اس کے علاوہ صدر رحم کی اپیل مسترد کر سکتا ہے۔

قتل کے مقدمے میں رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد اگر فریقین کے درمیان صلح ہونے کا امکان ہو تو ٹرائل کورٹ میں درخواست دی جاتی ہے جس پر فاضل عدالت اس پر عمل درآمد روک دیتی ہے۔

اگر فریقین کے درمیان معاملات طے پا جائیں اور مدعی مقدمہ عدالت میں تحریری بیان دے دے کہ اُس نے مجرم کو معاف کیا تو پھر عدالت مجرم کو رہا کرنے کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔

دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد عدالت کی طرف سے کیے جانے والے فیصلوں کے بعد اُن کی تمام اپیلیں مسترد ہو جائیں تو اُنھیں کسی بھی وقت تختہ دار پر لٹکایا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی کے مقدمے میں فریقین کے درمیان کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل بشارت اللہ کا کہنا ہے کہ عدالتوں کی طرف سے دی جانے والی ان سزاؤں پر کسی بھی وقت عمل درآمد ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پشاور میں سکول پر حملے کے بعد ملک میں سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی ہٹا دی ہے

اُنھوں نے کہا کہ اگر فریقین کے درمیان قتل میں راضی نامہ ہو بھی جائے تو عدالت اُنھیں انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے تحت موت کی سزا سُنائے گی۔

ایک اور وکیل رفیق عباسی کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن کی سمجھ سے باہر ہے کہ کیسے ہائی کورٹ نے مجرمان کی ان درخواستوں پر حکم امتناعی جاری کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی طرف سے دیے جانے والے فیصلوں کو سپریم کورٹ میں ہی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملوں کے مقدمے کے ایک مجرم عامر سہیل کو فوجی عدالت کی طرف سے پہلے دی گئی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا تھا، جبکہ فوجی عدالت نے ان کی طرف سے اس درخواست کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے اُن کی عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔

اسی بارے میں