رحم کی درجنوں اپیلیں مسترد،’اب کسی وقت پھانسی ہو جائے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک کے شہروں اور دیہات میں چھپے دشمنوں کے حلاف بھی کارروائی ہو گی: نواز شریف

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے پھانسی کی سزا پانے والے 50 سے زائد قیدیوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔

پاکستان کے حکومتی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر مملکت نے پیر کو دہشت گردی کے مقدمات میں سزا یافتہ 50 سے زائد قیدیوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی ہیں اور اب کسی بھی وقت انھیں پھانسی دے دی جائے گی۔

حکام کے مطابق پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کے حکومتی فیصلے کے بعد پھانسی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بلیک وارنٹ جاری ہونے کے بعد پھانسی دیے جانے کی مدت کو 14 دنوں سے کم کر کے تین دن تک محدود کر دیا گیا ہے۔

’اگر ان دنوں انھیں پھانسی نہیں دی گئی تو حکومت کو نیا بلیک وارنٹ جاری کرنا ہوگا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ حکومت کب ان 50 سے زائد مجرموں کے بلیک وارنٹ جاری کرے گی۔‘

اس سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی اور فرقہ واریت کی لعنت سے چھٹکارا دلانے کے لیے یہ بہترین موقع ہے۔

پیر کو ’انسداد دہشت گردی پلان‘ پر وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں وزیرداخلہ چوہدری نثار، وزیر برائے سرحدی امور عبدالقادر بلوچ، اٹارنی جنرل اور وزیراعظم کے مشیر موجود تھے۔

وزیراعظم ہاؤس سے موصول ہونے والے تحریری بیان کے مطابق میاں نواز شریف نے کہا کہ شدت پسندوں اور ان کی حمایت کرنے والوں میں کوئی تفریق نہیں رکھی جائے گی۔

وزیراعظم نے شرکا کو بتایا کہ آپریشن ضرب عضب ملک کے قبائلی علاقوں میں جاری ہے جبکہ ملک کے شہروں اور گاؤں میں چھپے دشمنوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption خیبر پختونخوا میں سکول کھلنے سے پہلے وہاں کی سکیورٹی کا جائزہ لیا جائےگا: عمران خان

اس موقعے پر وزیراعظم نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ ہزارہ ٹاؤن، کوئٹہ اور پشاور چرچ جیسے حملوں میں معصوم لوگوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

’دہشت گردی اور فرقہ واریت پاکستان کے لیے کینسر کی مانند ہیں اور یہ بہترین موقع ہے کہ ہم اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کریں۔‘

ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نےوفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کو صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داریاں سونپی جائیں۔

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا کہ قوم متحد ہے کہ پشاور جیسا سانحہ دوبارہ نہ ہو۔

انھوں نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں آپریشن ہو رہے ہیں جن کا دباؤ خیبر پختونخوا پر ہے اور آنے والے دنوں میں بھی ہو گا۔

عمران خان نے مطالبہ کیا کہ کسی دوسرے کے نام پر موبائل سم خریدنے کے عمل کو جرم قرار دیا جائے۔

انھوں نے پاک افغان بارڈر پر لوگوں کی آمدورفت پر نظر رکھنے اور سرحد کو کنٹرول کرنے کی ضرورت پر زور دیا: ’افغانستان سے پاکستان آنے کے لیے 500 ویزے دیے جاتے ہیں تاہم لوگوں کی آمدورفت 15 سے 20 ہزار تک ہوتی ہے۔‘

افغان مہاجرین اور آئی ڈی پیز کی تعداد پر بات کرتے ہوئے عمران خان نےوفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صوبائی حکومت کی مالی مدد کرے۔

’پختونخوا میں17 لاکھ افغان مہاجرین اور 20 لاکھ آئی ڈی پیز ہیں۔‘

عمران خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انٹیلیجنس معلومات حاصل کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کی پولیس کو ضروری آلات خریدنے کی اجازت دے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سکول کھلنے سے قبل سکولوں کی سکیورٹی کا جائزہ لیا جائے گا ۔ اس سلسلے میں آئی جی خیبر پختونخوا ایک سسٹم بنا رہے ہیں جس میں ایک موبائل فون کال سے سکولوں میں کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے خصوصی فورس پہنچ جائے گی۔

اسی بارے میں