کوٹ رادھا کشن کیس: 68 افراد پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تقریباً دو ماہ پہلے پنجاب کے ضلع قصور کے نواحی علاقے کوٹ رادھا کشن میں ایک مشتعل ہجوم نے قرآن کی مبینہ بےحرمتی کے الزام پر اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے ایک مسیحی میاں بیوی کو قتل کر دیا تھا

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کی ہلاکت کے مقدمے میں 68 ملزموں پر فرد جرم عائد کردی ہے، تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

بدھ کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں 68 ملزمان کو پیش کیا گیا۔

عدالت نے ملزمان سے استفسار کیا کہ کیا وہ تفتیشی افسر کی رپورٹ سے اتفاق کرتے ہیں جس میں انھیں ہلاکت کا ذمےدار بتایا گیا ہے۔ تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔

اس پر عدالت نے دو جنوری کو سرکاری گواہان کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔گواہوں کے بیانات کے بعد جرح اور دلائل کا عمل مکمل کر کے عدالت کی جانب سے فیصلہ سنایا جائے گا۔ مقدمے کی سماعت دو جنوری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ تقریباً دو ماہ پہلے پنجاب کے ضلع قصور کے نواحی علاقے کوٹ رادھا کشن میں ایک مشتعل ہجوم نے قرآن کی مبینہ بےحرمتی کے الزام پر اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے ایک مسیحی میاں بیوی کو قتل کر دیا تھا۔ شمع اور شہزاد مسیح کو ہجوم نے تشدد کرنے کے بعد بھٹے میں جلا دیا تھا۔

گذشتہ سماعت کے دوران تفتیشی افسر کی جانب سے مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

تحریری رپورٹ میں تفتیشی افسر نے 68 ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو یہ بھی بتایا تھا کہ بھٹے کا مالک بھی مسیحی جوڑے کی ہلاکت میں ملوث ہے۔

توہینِ مذہب کے نام پر ملک میں کئی افراد کو قتل کیا جا چکا ہے، جن میں زیادہ تعداد اقلتیوں کی ہے۔ پاکستان کے قانون کے مطابق اس جرم پر موت کی سزا دی جا سکتی ہے، لیکن بہت سے واقعات میں مشتعل ہجوم بنا تحقیق ہی ملزمان کو موقعے پر ہلاک کر دیتا ہے۔

اسی بارے میں