آزادی بھی اور غیرجانبداری بھی رہے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹوئٹر پر ’نو ایئرٹائم فار طالبان‘ کا ہیش ٹیگ بھی شروع کیا گیا ہے۔ اس ہیش ٹیگ پر شہریوں سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس آن لائن پٹیشن پر سائن کریں جس میں ایسے ٹیلی ویژن چینلوں پر پابندی کا تقاضا کیا گیا ہے جو مسلح گروہوں اور ان کے ہمدردوں کا موقف پیش کر رہے ہیں

دہشت گردی کے نشانے پر ہونے کے باعث پاکستان میں زندگی کا ہر پہلو ہی متاثر ہوا ہے لیکن خاص طور پر پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں، مذہبی رہنماؤں اور سیاست دانوں سمیت سب ہی اداروں کی پالیسیوں اور کردار پر بحث جاری ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ملک میں موجود جنگ کی سی کیفیت پیدا کرنے میں ذرائع ابلاغ کی حکمت عملی پر بھی کئی سوال اٹھائے ہیں۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے دہشت گردی کے خلاف قومی پلان آف ایکشن کی سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک طرف پاکستان فوج کا موقف آ رہا ہو اور دوسری طرف دہشت گردوں کا موقف پیش کیا جا رہا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر میڈیا ان کو بلیک آؤٹ نہیں کرے گا اور ان کی خبروں کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کرے گا تو یہی تاثر ہو گا کہ شدت پسندوں کی سرگرمیاں بھی اسی طرح ہیں جس طرح حکومت یا فوج کے اقدامات۔

وزیر داخلہ نے پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں یہ بھی بتایا کہ اس پر اتفاق ہے کہ اگر ضرورت ہوئی تو اس حوالے سے نیا قانون لایا جائے جس سے انٹرنیٹ اور دوسرے ذرائع ابلاغ پر شدت پسندوں کو مکمل طور پر بلیک لسٹ کیا جا سکے۔

اور صرف وزیر داخلہ ہی نہیں سوشل میڈیا پر بھی کچھ شہریوں کی طرف سے یہ مہم چلائی گئی ہے کہ طالبان اور ان کے ہمدردوں کو ایئر ٹائم دینے سے گریز کیا جائے۔

ٹوئٹر پر ’نو ایئر ٹائم فار طالبان‘ کا ہیش ٹیگ بھی شروع کیا گیا ہے۔ اس ہیش ٹیگ پر شہریوں سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ اس آن لائن پٹیشن پر سائن کریں جس میں ایسے ٹیلی ویژن چینلوں پر پابندی کا تقاضا کیا گیا ہے جو مسلح گروہوں اور ان کے ہمدردوں کا موقف پیش کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں خاص طور پر کئی نیٹ ورکس کی جانب سے سانحہ پشاور کے بعد لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کا انٹرویو پیش کرنے کی مثال پیش کی جا رہی ہے۔

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ اس سے پہلے بھی تشدد کا راستہ اپنانے والی تنظیموں کے موقف کو نشر کرنے کے بارے میں میڈیا کے کردار پر بحث ہوتی رہی ہے۔

لیکن تصویر کے دونوں رخ دکھانے کی ذمےداری بھی تو صحافتی اداروں کی ہے۔ اور کیا ایک جانب کا موقف بالکل پیش نہ کرنا بےلاگ اور غیرجانبدارنہ صحافت کے اصولوں کے خلاف نہیں؟

صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن آئی اے رحمان کہتے ہیں: ’یہ شکایت درست ہے کہ میڈیا کو دہشت گردی کی خبریں دیتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ ہمارا معاشرہ پہلے ہی کافی تکلیف میں ہے۔ تشدد کی تشہیر سے اذیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ البتہ میڈیا کا یہ فرض ہے کہ دونوں طرف کا موقف پیش کرے اور جو واقعات ہوں ان کی رپورٹنگ پوری صحت اور سچائی سے کی جائے۔‘

شدت پسندوں کے موقف کی نشر و اشاعت پر پابندی کے حامی اس حوالے سے ایک بڑی مثال برطانیہ میں شمالی آئرلینڈ کی علیحدگی کی تحریک سے دیتے ہیں۔ اس تحریک کے دوران 1988 سے 1994 تک اس وقت کی برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے بی بی سی پر 11 آئرش عسکری اور سیاسی تنظیموں کی سرگرمیوں کی تشہیر پر پابندی عائد کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزیر داخلہ چوہدری نثار نے دہشت گردی کے خلاف قومی پلان آف ایکشن کی سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک طرف پاکستان فوج کا موقف آ رہا ہو اور دوسری طرف دہشت گردوں کا موقف پیش کیا جا رہا ہو

بی بی سی اردو سے گذشتہ تقریباً 30 برس سے وابستہ صحافی عارف وقار اس زمانے میں لندن میں بی بی سی کے صدر دفتر میں ہی تعینات تھے جب آئی آر اے کی سرگرمیوں اور میڈیا میں ان کی کوریج کا تنازع ابھرا۔ بی بی سی نے قانون کی پاسداری کے ساتھ صحافتی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ایک دلچسپ راستہ نکالا۔

’جب آئی آر اے سے متعلق شور مچا تو حکومت نے میڈیا پر یہ قدغن لگائی کہ آپ آئی آر اے کی خبر تو نشر کریں لیکن ان کے رہنماؤں کی آواز نہ سنائی جائے۔ بی بی سی سمیت برطانوی میڈیا نے اس کا توڑ یہ نکالا کہ آئی آر اے کے رہنماؤں کی بات کو ان سے ملتی جلتی آواز اور لہجہ رکھنے والے وائس آرٹسٹوں سے ڈب کروایا جاتا اور اسے نشر کیا جاتا۔ لیکن ان کے نقطۂ نظر کا بائیکاٹ نہیں کیا گیا۔ یہ محض ایک تماشہ تھا جس سے سکرپٹ پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ تاہم حکومت کی طرف سے لگائی گئی پابندی نبھ جاتی تھی۔‘

لیکن عارف وقار کہتے ہیں کہ ہر ملک کے اپنے زمینی حقائق ہوتے ہیں اور ہر تحریک کے اپنے مقاصد اس لیے پاکستان میں مسلح تنظیموں کے موقف اور نظریات کی نشر و اشاعت کو دنیا کے دوسرے حصوں میں ہونے والی مسلح تحریکوں یا برطانیہ کی آئی آر اے کی تحریک سے موازنہ کرنا مناسب نہیں۔

’برطانیہ میں تعلیم کی شرح پاکستان کی نسبت کافی زیادہ ہے جس کی وجہ سے شہریوں میں شعور بھی پختہ ہے۔ وہاں اگر کوئی مسلح شخص بھی اپنا موقف دے تو لوگ اس کا اثر اس طرح نہیں لیتے جس طرح کہ پاکستان میں۔‘

یعنی ہر صورت میں یہ ایک دو دھاری تلوار ہے جس پر ہر قدم ہی پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے صحافتی اداروں میں اس طرح کا تجربہ اور سمجھ بوجھ کس حد تک موجود ہے کہ آزادی بھی برقرار رہے اور نازک حالات میں ذمےداری اور غیرجانبداری کے تقاضے بھی پورے ہوتے رہیں؟

اسی بارے میں