فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں کےقیام کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption معصوم بچوں کا خون بہا کر پاکستانی قوم کو جو درد دیا ہے اس کا منہ توڑ جواب دیا جائےگا: نواز شریف

ملک میں جاری دہشتگردی کو روکنے کے لیے پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے گی۔

نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت مسلح جتھوں کی اجازت نہیں دے گی اور پنجاب سیمت ملک کہ کسی حصے میں بھی انتہا پسندوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں پیدا کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کرنا میری ذمہ داری ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردوں نے قوم کے نونہالوں کو نشانہ بنا کر ہمارے مستقبل کے سینے میں خنجر گھونپا ہے۔’دہشت گردوں کو لہو کےایک ایک قطرے کا حساب دینا ہوگا اور جلد دینا ہوگا۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ ’سانحہ پپشاور کے بعد کا پاکستان بدل چکا ہے، جس میں دہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ واریت اور عدم برداشت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔، ہم نہ صرف دہشت گردی بلکہ دہشت گردانہ سوچ کا بھی خاتمہ بھی کریں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ملک کی سیاسی پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متفقہ ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ جس کے اہم نکات یہ ہیں۔

  • فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتیں بنائی جائیں گی جس کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے گی
  • کالعدم تنظیموں کو کسی دوسرے نام سے کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
  • دینی مدارس کی رجسٹریشن کی جائے گی۔
  • دہشتگردوں سے نمنٹے کے لیے سپیشل اینٹی ٹیررازم فورس بنائی جائے گی۔
  • پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دہشت گردوں کی خبریں نشر کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔
  • نٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
  • وسیع ترسیاسی مفاہمت کے لیے تمام سٹیک ہولڈروں کی جانب سے بلوچستان حکومت کو اختیار دیا جا رہا ہے۔
  • دہشت گردوں کے مواصلاتی نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کیا جائےگا۔
  • پنجاب سمیت ملک کے ہر حصے میں انتہا پسندی کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جائےگی۔
  • کراچی میں جاری آپریشن کو اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائےگا۔
  • فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کی جارہی ہے۔
  • افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کے ابتدائی مرحلے کے ساتھ ان کے بارے میں ایک جامع پالیسی تشکیل دی جارہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج ایک تاریخی دن تھا اور کل کا پاکستان ایک پرسکون پاکستان ہوگا۔’ہم پہ ایک قرض تھا جو آج بہت عرصے کے بعد چکایا جا رہا ہے۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ جانتا ہوں کہ چھوٹے چھوٹے تابوت والدین کے کندھوں پر کتنے بھاری تھے۔’تم نے ہمارے معصوم بچوں کا خون بہا کر پاکستانی قوم کو جو درد دیا ہے اس کا منہ توڑ جواب دیا جائےگا۔‘