’14 برس کی عمر میں سزائے موت‘

Image caption سندھ ہائی کورٹ نے حال ہی میں شفقت کی اپیل تکنیکی بنیادوں پر مسترد کی ہے

’پولیس نے تفتیش کے دوران تین انگلیوں کے ناخن نکال دیے۔ اتنا مارا کہ اس سے جب اس بارے میں پوچھیں تو اس کا شلوار میں پیشاب نکل جاتا ہے۔ وہ دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر رونے لگتا ہے، کہتا ہے وہ نہیں بتا سکتا بس چار ماہ تک خوب مارا۔‘

یہ دعویٰ ہے اغوا اور قتل کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت سزائے موت پانے والے 23 سالہ شفقت حسین کے بڑے بھائی منظور حسین کا جنھوں نے مظفرآباد میں بی بی سی سے ملاقات کی۔

14 برس کی عمر میں سزائے موت: ویڈیو

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

شفقت حسین کے بھائی کی بی بی سی سے بات چیت سنیے

عام تاثر ہے کہ بڑے بھائی بڑے حوصلے اور بڑے دل والے ہوتے ہیں لیکن منظور حسین اور اس کے خاندان کو اپنے خاندان کے سب سے چھوٹے رکن کے حوالے سے ملک کے نظامِ عدل کے ہاتھوں گذشتہ دس برسوں سے روزانہ جس جینے مرنے کے کھیل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس سے تو بڑے بڑے حوصلہ ہار سکتے ہیں۔

بھائی سے متعلق بات کرتے ہوئے منظور کی آنکھیں بار بار نم اور بولنے کی طاقت ختم ہو جاتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ والد کو فالج کے اٹیک کے بعد ان کی مالی معاونت کے لیے شفقت نے سکول چھوڑ کر کراچی کی راہ لی تھی۔

منظور حسین کے مطابق خط و کتابت ہی شفقت سے رابطے کا ذریعہ تھا اور ’ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں کام کر رہا ہے۔ 2004 کے آغاز پر کراچی سے آنے والے ایک شخص نے بتایا کہ آپ کا بھائی گرفتار ہوگیا ہے۔‘

منظور حسین کا کہنا ہے کہ وہ قرضہ لے کر شفقت سے ملنے مظفر آباد سے کراچی گئے۔ ’وکیل کرنے کے لیے مالی سکت نہیں تھی لیکن شفقت نے ملاقات میں یہی بتایا کہ اس نے یہ جرم نہیں کیا۔‘

Image caption غربت کی وجہ سے شفقت کے اہلِ خانہ دس برس میں دو بار ہی اس سے ملنے کراچی جا سکے

ان کے مطابق شفقت کا کہنا تھا کہ ’مجھے انصاف دلایا جائے، میں نے یہ کام نہیں کیا، میری عمر ہی نہیں کیا میں یہ کام کر سکتا ہوں؟‘

انھوں نے اپنی بات چیت میں شفقت کے کسی جہادی یا دہشت گرد تنظیم سے تعلق سے بھی مکمل انکار کیا اور کہا کہ ’گاؤں کیل کلالوٹ میں کسی جہادی تنظیم کا کوئی وجود نہیں، کسی جہادی تنظیم کا نام بھی نہیں ہے۔‘

پیار سے بابلا کہلوانے والے شفقت حسین کا نام ان افراد کی فہرست میں شامل ہے جنھیں پشاور سانحے کے بعد کسی بھی وقت سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

انھیں کراچی میں سنہ 2004 میں ایک بچے کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی اور اس وقت ان کی عمر 14 برس تھی۔

اب ان کا مقدمہ لڑنے والی غیر سرکاری تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان کا کہنا ہے کہ شفقت کی کم عمری کا مسئلہ پوری سماعت کے دوران سرکاری وکیل صفائی نے اٹھایا ہی نہیں۔

تنظیم کے مطابق اس کا اقبال جرم بھی پولیس کے تشدد کا نتیجہ تھا اور شفقت کے جسم پر سگریٹ کے نشان آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی لگانا زیادتی تھی۔

Image caption شفقت کی بوڑھی ماں اس کی تصویریں دیکھ کر اسے یاد کرتی ہے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع نیلم کے دور افتادہ کیل سیکٹر کے اس خاندان کی کہانی شاید ان سے زیادہ اس ریاست کی ناکامی کی کہانی ہے۔

فالج زدہ باپ، 80 سالہ بوڑھی ماں، چار بھائیوں اور تین بہنوں پر مشتمل اس خاندان کا کوئی مستقل ذریعۂ معاش نہیں۔ روزانہ دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا ہی ان کے لیے دن کا سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

کیل سے مظفرآباد آنے کے لیے فی کس ایک ہزار روپے کرایہ درکار ہوتا ہے اور یہ خاندان اس رقم کا بندوبست نہیں کر سکتا تو ملک کے آخری کونے کراچی تک جانے کی معاشی سکت اس میں کہاں ہوگی۔

منظور حسین نے بتایا کہ کراچی کی جیل میں قید ان کے بھائی سے ملاقات کے لیے وہ دس برس میں صرف دو مرتبہ جا سکے ہیں۔

رنجیدہ والدہ اور دیگر بہن بھائیوں نےگھر کے برے حالات کی وجہ سے تنگ آ کر ایک دن دوستوں کے ساتھ ملازمت کی تلاش میں کراچی جانے والے شفقت حسین کو اس دن کے بعد سے آج تک نہیں دیکھا۔

اتنے برے معاشی حالات سے دوچار خاندان شفقت کے لیے اچھے وکیل کا بندوبست کہاں کر سکتا تھا۔

Image caption شفقت کے غریب اہلِ خانہ اس کی رہائی کے لیے دعاگو ہیں

رو رو کر اپنے آنکھوں کا نور کھو دینے والی ماں مخنی بیگم نے بتایا کہ اس ملاقات کے لیے انھوں نے کپڑے بھی کسی اور سے مانگ کر پہنے ہیں۔ ’میری زندگی تو جل گئی ہے۔ میں تو کب کی مر گئی ہوں۔ اپنے لال کو میں کیا اب کبھی نہیں دیکھ پاؤں گی۔ اسے کیسے بھول جاؤں؟‘

شفقت سے عمر میں دو سال بڑی بہن سمیرا نے بتایا کہ شفقت بہت اچھا بھائی تھا۔ ’وہ نہ کسی کو تنگ کرتا تھا نہ کوئی شرارت۔ بس تنگ دستی کا اسے بہت احساس تھا۔‘

اس کرب سے گزرنے والے خاندان سے ملاقات کے بعد ذہن میں یہی سوال اٹھے کہ ان کے معاشی استحکام کی ذمہ داری کس کی تھی؟ اس ملزم کا مناسب عدالتی دفاع کس کی ذمہ داری تھی؟

اگر وہ دہشت گرد تھا تو شاید ہی کوئی اس کی سزا سے اختلاف کرے لیکن نئے حقائق کے سامنے آنے کے بعد اس بات کو عدالت یا حکومت میں سے کون یقینی بنائے گا کہ کسی کو ضرورت سے زیادہ سزا نہ دی جائے۔

اس دکھی خاندان کا اب ایک ہی مطالبہ ہے کہ ان کے بھائی کا مقدمہ دوبارہ چلنا چاہیے۔ کیا یہ بہت مشکل مطالبہ ہے جو پورا نہیں کیا جا سکتا؟

اسی بارے میں