قومی ایکشن پلان پر فوری عمل درآمد کی ہدایت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جنرل راحیل نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ان اقدامات پر عمل درآمد کے لیے فوری بنیادوں پر تیز اور موثر کام کریں

پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان کے تحت فوج اور خفیہ اداروں کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کا جائزہ لیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پلان پر موثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں۔

ادھر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد نواز شریف نے جمعے کو ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے جس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کے اجلاس کے اعلامیے کے نکات اور وزیر اعظم کے قوم سے خطاب میں کیے گئے اعلانات پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے۔

برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جمعرات کو ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے سیاسی قیادت نے جس عزم اظہار کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت جمعرات کو جی ایچ کیو میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں سکیورٹی کی صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فوج ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ قوم کے اعتماد کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

بیان کے مطابق آرمی چیف نے ان تمام اقدامات کا جائزہ لیا جو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے جائیں گے۔

آرمی چیف نے قومی ایکشن پلان پر فوری عمل درآمد کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی قیادت کے درمیان انسداد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پائے جانے والے اتفاق رائے پر فوری عمل درآمد کرایا جائے گا۔

دوسری جانب وزیراعظم اپنی سیاسی اور قانونی ٹیم سے قوم سے خطاب میں کیے جانے والے اعلانات پر عمل درآمد پر مشاورت کر رہے ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس سے موصول ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے اعلانات پر عمل درآمد کے لیے جمعے کو اجلاس طلب کیا ہے۔

بدھ کی شب وزیرِاعظم نواز شریف نے ملک میں جاری دہشت گردی کو روکنے کے لیے پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے اجلاس کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے گی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے قوم کے نونہالوں کو نشانہ بنا کر ہمارے مستقبل کے سینے میں خنجر گھونپا ہے۔

’دہشت گردوں کو لہو کےایک ایک قطرے کا حساب دینا ہوگا اور جلد دینا ہوگا۔‘

نواز شریف نے کہا کہ ’سانحہ پشاور کے بعد کا پاکستان بدل چکا ہے، جس میں دہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ واریت اور عدم برداشت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، ہم نہ صرف دہشت گردی بلکہ دہشت گردانہ سوچ کا بھی خاتمہ بھی کریں گے۔‘

اسی بارے میں