تعلیمی اصلاحات اور خون آلود قمیض

Image caption تقریب اجرا میں مصنف ڈاکٹر عبدالوہاب، کمشنر کراچی شعیب صدیقی، ڈاکٹر ظفر اقبال، بریگیڈیئر مظفر حسن، عبدالقدیر خانزادہ، دوست محمد فیضی اور تقریب ناظم عبدالجبار خان

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ تعلیم و تدریس کا شعبہ دوسرے شعبوں کی نسبت پاک صاف اور محفوظ ہوتا ہے لیکن دو وائس چانسلروں نے اس تصور کی تمام قلعی کھول دی۔

خطروں، دباؤ اور دھمکیوں کی مخلتلف نوعیتوں میں مبنی یہ انکشافات کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے سربراہ ڈاکٹر عبدالوہاب کی کتاب ’سرکاری اداروں کی اصلاح‘ تقریب اجرا کے دوران مقرروں نے کیے۔

تقریب اجرا منگل کی شب کراچی پریس کلب میں ہوئی۔ تقریب سے ڈاکٹر ظفر اقبال، بریگیڈیئر مظفر حسن، عبدالقدیر خانزادہ اور دوست محمد فیضی نے خطاب کیا۔ جب کہ مہمان خصوصی کمشنر کراچی شعیب صدیقی تھے۔

وفاقی اردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو ہر طرح کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے انکشاف کیا ہے جس کسی کا بھی وائس چانسلر کی حیثیت سے تقرر ہو اُسے ہر طرح کے دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ دباؤ ڈالنے والوں میں میڈیاکے لوگ بھی ہوتے ہیں جو پیسوں اور مراعات کا مطالبہ کرتے ہیں، ان میں طلبہ اور اساتذہ گروہ اور ایسوسی ایشنیں بھی ہوتی ہیں، ان میں بیوروکریٹ بھی ہوتے ہیں اور سیاست دان بھی جو ایسے بچوں کے داخلوں کا مطالبہ کرتے ہیں جو داخلوں کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔

ڈاکٹر ظفر کا کہنا تھا کہ یہ تو دباؤ کی معمولی سی قسم ہے۔ اصل میں تو دباؤ تمام سمتوں اور معاشرے کے تمام طبقوں کی طرف آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں شدید کرپشن پائی جاتی ہے۔ ایسی کرپشن جس میں بینکوں کے کچھ لوگ، طلبہ اور اساتذہ کی تنظیمیں تک ملوث ہوتی ہیں اور ملی بھگت سے یونیورسٹیوں کو ان فنڈز سے محروم کر دیتی ہیں جو انھیں داخلہ فیسوں کی مد میں ملنے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر نے بتایا کہ جب انھیں وائس چانسلر بنایا گیا تو یونیورسٹی کو داخلہ فیسوں کی مد میں 22 لاکھ روپے حاصل ہوتے تھے۔ انھوں نے داخلہ فیس صرف پے آرڈر کے ذریعے جمع کرانے کا طریقہ شروع رائج کیا تو یونیورسٹی کو اس مد میں چار کروڑ 60 لاکھ روپے حاصل ہونے لگے۔

مصنف ڈاکٹر عبدالوہاب نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو معاشرے کی عکاسی کی بجائے اپنی مثال خود آپ ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا ایک ایماندار شخص کو سنگین ترین خطرہ جان جانے کا ہوتا ہے اور انھیں اس کا تجربہ تب ہوا جب وہ آئی بی اے کے ڈائریکٹر تھے۔ ایک آرگنائز ان کے پاس ایک سبز قمیض لے کر آئے جس کے بائیں بازو پر خشک خون کے نشان تھے۔

’خطرہ بالکل قریب تھا اور شاید مجھے کہا جا رہا تھا کہ تعلیم کو بہتر بنانے سے روکنے کے لیے میری جان بھی لی جا سکتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان پر فوجی حکومتوں اور جمہوری طور پر منتخب ہونے والوں نے یکساں نوعیت کے دباؤ ڈالے۔ لیکن انھوں نے ہر دباؤ کو محاذ آرائی میں پڑے بغیر برداشت کیا اور اپنے اور آئی بی اے کے وقار کو قائم رکھا۔

ڈاکٹر وہاب کا کہنا تھا کہ انھوں نے تعلیم کو ’ایسنشل سروس‘ یعنی لازمی خدمت تصور کیا اور آئی بی اے کو اُس وقت بھی بند نہیں کیا جب فوجی حکومت نے ہر چیز کو بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 22 سال کے دوران ہر قسم کے مشکل ترین حالات میں انھوں نے آئی بی اے کو کبھی بند کرنے کی اجازت نہیں دی۔

تقریب اجرا کے مہمانِ خصوصی کمشنر شعیب صدیقی کا کہنا تھا کہ یوں تو یہ کتاب ملک میں ہر ایک کے لیے ضروری ہے لیکن ان لوگوں کے لیے تو خاص طور پر بہت ضروری ہے جو لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

عبدالجبار خان نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔