مولانا عبدالعزیز کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عدالت نے معاملہ سُننے کے بعد لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

وفاقی دارالحکومت کی عدالت نے لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

سول سوسائٹی کے اراکین کو موت کی دھمکیاں دینے کی وجہ سے مولانا عبدالعزیز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری اسلام آباد کی مقامی عدالت کے سینیئر سول جج ثاقب جواد نے جاری کیے۔

جمعے کو پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ سول سوسائٹی کے اراکین نے مولانا عبدالعزیز کے خلاف قتل کی دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج کروایا ہے، لہٰذا لال مسجد کے خطیب کو گرفتار کرنے کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے معاملہ سُننے کے بعد لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

یاد رہے کہ 20 دسمبر کو اسلام آباد میں پولیس نے سماجی کارکنوں کی درخواست پر لال مسجد کے خطیب عبدالعزیز اور ان کے محافظوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

یہ مقدمہ جمعے کو رات گئے اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں سول سوسائٹی کے رکن سید نعیم بخاری کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

سول سوسائٹی کے ارکان جمعرات سے لال مسجد کے خطیب کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں اور ان کا عبدالعزیز سے مطالبہ ہے کہ وہ پشاور میں سکول پر حملہ کرنے والے طالبان کی مذمت کریں۔

اسی احتجاج کے دوران مظاہرے کے منتظمین نے لال مسجد سے متعلقہ شہدا فاؤنڈیشن کا ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں انھیں خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

اس بیان کے سامنے آنے کے بعد مظاہرے کے شرکا نے آبپارہ تھانے کا رخ کیا اور وہاں لال مسجد کے خطیب اور ان کے محافظوں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکی دینے اور کالعدم طالبان کی حمایت کرنے پر ایف آئی آر درج کروانے کے لیے درخواست دی۔

اسی بارے میں