اخلاص روسی کی میت ماسکو روانہ کر دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اخلاص روسی کے والد کا تعلق پاکستان میں زیر انتظام کشمیر کے گاوں کوکوٹہ سے ہے جبکہ ان کی والدہ روسی ہیں

سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملے کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے مجرم محمد اخلاص روسی کی میت جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ماسکو روانہ کر دی گئی ہے۔

اسلام آباد بےنظیر انٹرنیشل ایئرپورٹ پر تعینات وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے اہلکاروں نے اس کی تصدیق کی ہے کہ روس کا ایک خصوصی چارٹر طیارہ اخلاص روسی کی میت لے کر ماسکو روانہ ہو گیا ہے۔

ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق اس موقعے پر روسی سفارت خانے اور پاکستانی وزارت خارجہ کے اہلکار بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے۔

یاد رہے کہ 21 دسمبر کو اخلاص روسی کو صوبہ پنجاب کے وسطی شہر فیصل آباد کی جیل میں تین دیگر مجرمان کے ہمراہ پھانسی دی گئی تھی۔ چاروں افراد کو فوجی عدالتوں کی طرف سے موت کی سزا سُنائی گئی تھی اور ان کے موت کے پروانوں پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دستخط کیے تھے۔

اخلاص کے والد کا تعلق پاکستان میں زیر انتظام کشمیر کے گاؤں کوکوٹہ سے ہے جبکہ ان کی والدہ روسی ہیں۔

اخلاص کی لاش کو 22 دسمبر کو ان کے والد ڈاکٹر اخلاق نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع پونچھ میں اپنے آبائی گاؤں میں امانتاً دفن کروا دیا تھا۔

اسی دوران اخلاص روسی کی والدہ ویتلانا ویلنتونا روس سے اسلام آباد پہنچ گئیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ اپنے بیٹے کی قبر پر جانا چاہتی تھیں تاہم اُن کے شوہر کے مطابق متعقلہ حکام نے اُنھیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی۔

مقامی پولیس کے مطابق اخلاص کے ورثا نے متعلقہ حکام کی اجازت سے قبر کشائی کر کے اخلاص کی میت اسلام آباد کے لیے روانہ کر دی گئی تاہم اسلام اباد پولیس نے اخلاص کی لاش اور ایمبولنس کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ترجمان ڈاکٹر وسیم کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار جمعرات کی شب اخلاص کی میت کو مردہ خانے رکھوانے کے لیے لائے تاہم حکام کی اجازت کے بعد اخلاص روسی کی میت کو مردہ خانے میں رکھ دیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی حکام اور روسی سفارت خانے کے عملے کے دوران ہونے والے مذاکرات کے بعد اخلاص کی میت کو روسی سفارت خانے کے عملے کے حوالے کر دی گئی جسے لے کر روسی سفارت کار خصوصی طیارے کے ذریعے ماسکو روانہ ہو گئے۔

پھانسی پانے والے 34 سالہ اخلاص احمدکی پاکستان اور روس کی دوہری شہریت تھی اور وہ سنہ 2001 میں روس سے پاکستان آئے تھے۔ اخلاص احمد پر دسمبر 2003 کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر ہونے والے حملے کا الزام تھا۔