ہر طرح کا تشدد دہشت گردی سمجھا جائے گا: نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’دہشت گردی کے خلاف فیصلے ہفتوں میں نہیں دنوں میں ہوں گے‘

وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر طرح کے تشدد کو دہشت گردی سمجھا جائے گا اور ایکشن پلان پر فوری اور موثر انداز میں عمل درآمد کیا جائے گا۔

ایک دن پہلے ہی برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے قومی ایکشن پلان کے تحت فوج اور خفیہ اداروں کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کا جائزہ لیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ پلان پر موثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں۔

کیا فوج ہی ہر مرض کی دوا ہے؟

جمعے کو وزیراعظم ہاؤس میں دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس کمیٹی میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی، وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید، سرحدی امور کے وزیر عبدالقادر بلوچ، وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز شامل ہیں۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن ضرب عضب اور شہروں میں دہشت گردوں کے خلاف جاری ضرب عضب ملکی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ہے۔

اس کے علاوہ ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے درکار ضروری قانون سازی اور آئینی ترامیم کے لیے اٹارنی جنرل کو سیاسی جماعتوں سے مشاورت شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔

وزیراعظم نواز شریف نے اجلاس کے موقعے پر کہا کہ وہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے صوبوں کا دورہ کریں گے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ آج کا پاکستان تبدیل ہو چکا ہے اور آج ہم یہاں ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے لیے جمع ہوئے ہیں اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک سانحہ پشاور ہماری توجہ کا مرکز رہے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ’ دہشت گردی کے خلاف ناقابل واپسی عمل شروع ہو چکا ہے اور وزارتِ دفاع کی تعاون سے جلد انسداد دہشت گردی کی فورس قائم کی جائے گی۔

وزیراعظم کے مطابق ملک کی سیاسی قیادت کے درمیان اتفاق رائے سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی اور عدم برداشت کی حکمت عملی کے تحت سرزمین سے دہشت گردی کی لعنت کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

اجلاس میں وزارتِ خزانہ اور سیٹیٹ بینک کو ہدایت کی گئی کہ وہ دہشت گردوں کی مالی مدد روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

اجلاس وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اقلیتی برادری کی لڑکیوں سے جبری شادیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور اس طرح کا استحصال بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔اس کے علاوہ ملک سے نفرت آمیز مواد، شدت پسندی اور فرقہ واریت کو فروغ دینے والے مواد پر پابندی کی ہدایت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل راحیل نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ان اقدامات پر عمل درآمد کے لیے فوری بنیادوں پر تیز اور موثر کام کریں

اس سے ایک دن پہلے ہی جمعرات کو برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان کے تحت فوج اور خفیہ اداروں کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کا جائزہ لیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ پلان پر موثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں۔

آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی قیادت کے درمیان انسداد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پائے جانے والے اتفاق رائے پر فوری عمل درآمد کرایا جائے گا۔

اس سے پہلے بدھ کو ملک میں جاری دہشت گردی کو روکنے کے لیے پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے اجلاس کے بعد ایک متفقہ ایکشن پلان تیارکیا گیا تھا۔

اس ایکشن پلان میں فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتیں بنانے اور ملک میں فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سمیت 20 نکات شامل تھے۔

اسی بارے میں