’اسٹیبلشمنٹ کی ناسمجھی سے جہاد ملک بھر میں پھیل گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ہمیں پتہ نہیں لگ رہا کہ کسے اچھا اور کسے برا طالبان کہا جا رہا ہے‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ کم سمجھ رہنماؤں اور جرنیلوں نے افغانستان اور کشمیر میں جہاد کو ملا کر نہ صرف جہادِ کشمیر کو کمزور کیا بلکہ جہادیوں کو عوام کے اندر گھل مل جانے کا موقع بھی فراہم کیا۔

سنیچر کو بینظیر بھٹو کی ساتویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں منعقد ہونے والے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سابق صدر نے پیپلز پارٹی کے اندر شکست و ریخت، بلاول بھٹو سے اپنے مبینہ اختلافات، فوجی عدالتوں کے قیام اور ’اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں‘ کا خاص طور پر ذکر کیا۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول میں بچوں کے قتلِ عام کے حوالے سے آصف علی زردای کا کہنا تھا کہ ’اگر دہشتگردوں کے خلاف اس وقت آپریشن شروع کر دیا جاتا جب انھوں نے بے نظیر بھٹو کے اسقبالیہ جلوس پر حملہ کر کے 450 بچوں کو ہلاک کر دیا تھا تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔‘

انھوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی ناسمجھی کی وجہ سے جہادی پورے ملک میں پھیل گئے ہیں اور ’ہمیں پتہ نہیں لگ رہا کہ کسے اچھا اور کسے برا طالبان کہا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جب بینظیر بھٹو کے خلاف الیشکن چرایا گیا اور وہ 17 نشستوں کے ساتھ پارلیمنٹ میں گئیں تو انہوں نے یہی کہا تھا کہ افغانستان اور کشیمر کے جہاد کو الگ الگ رکھو، لیکن اسٹیبلشمنٹ نے ایسا نہ کیا۔‘

فوجی عدالتوں کے قیام کے بارے میں آصف علی زردای نے کہا کہ عوام اور ملک کی سکیورٹی کے پیش نظر اس قسم کا قانون ضروری ہو چکا ہے، لیکن ’اس قانون پر اسی صورت میں دستخط ہوں گے جب ہمیں یقین ہو گا کہ اس قانون کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ یہ نہ ہو کہ ’اس قانون کے تحت میں، میاں صاحب اور دیگر رہنما جیل میں ڈال دیے جائیں۔‘

اس حوالے سے انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ملک میں اس قانون کی ضرورت ہے لیکن ہمیں یقینی بنانا چاہیے کہ اس قانون کا غلط استعمال نہ ہو۔’ پیپلز پارٹی اس قانون کے حق میں ووٹ دے گی، لیکن اس یقین کے ساتھ کہ یہ قانون کوئی کالا قانون نہیں بنے گا اور اسے کسی جمہوری جماعت، صحافی یا دانشور کے خلاف نہ استعمال کیا جا سکے گا۔‘

’پچھلی مرتبہ ہمارے خلاف مقدمات اسی قانون کے تحت عدالت کو بیجھے جا رہے تھے، تو ہم نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا، جس پر عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ ایسے مقدمات کا فوجی ٹرائل نہیں کیا جا سکتا۔‘

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ مخالفین پیپلز پارٹی کے اندر اور بلاول بھٹو زردادی اور خود ان کے درمیان اختلافات کی ’افواہیں‘ پھیلا رہے مگر انھیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ’یہ پارٹی ہمیشہ افواہوں اور سمندر کی موجوں کے خلاف تیرتی رہی ہے۔‘

مخدوم امین فہیم کے پارٹی کے ساتھ اختلافات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’نہ مخدوم صاحب نے پہلے غداری کی ہے اور نہ وہ اب غداری کریں گے۔‘

’ہماری تربیت بی بی شہید نے کی ہے اور انھوں نے مجھے سکھایا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے قربانی دینا پڑتی ہے۔ ’جس نے بھی پارٹی کی قیادت کرنی ہے اسے گڑھی خدا بخش میں ہی دفن ہونا ہوتا ہے۔ جو اس حد تک جائے گا، وہی پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالےگا۔‘

تاہم آصف علی زردادی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی ’شازشوں‘ سے باخبر ہے۔ ’ میں سونگھ رہا ہوں کہ بِلّا اپنے گھر میں بیٹھا ہوا سازشیں کر رہا ہے۔‘

سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’ایک طرف وہ ضمانت پر ہیں، دوسری جانب فوج ان کے ساتھ ہے اور تیسری جانب وہ سیاست بھی کر رہے ہیں۔

’ایک کام ہونا چاہیے، یا فوج ان کے ساتھ نہ چلے یا وہ سیاست نہ کریں۔ اگر فوج نے اس سے سیاست کرانی ہے تو وہ صاف کہہ دے کہ یہ ان کا نمائندہ ہے، تاکہ ہمیں صاف پتہ لگ جائے کہ ہمارا مقابلہ کس قوت سے ہے۔‘

اسی بارے میں