اورکزئی اور خیبر ایجنسی میں فوجی کارروائی، ’16 شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پشاور کے سکول پر حملے کے بعد فوج نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں

پاکستان فوج کے شعبۂ اطلاعات آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ اس نے قبائلی علاقوں خیبر اور اورکزئی ایجنسیوں میں کارروائیاں کر کے 16 شدت پسندوں کو ہلاک اور 20 کو زخمی کر دیا ہے۔

ادھر آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جمعے کے روز فضائی کارروائی میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی تعداد 39 ہو گئی ہے۔

میڈیا کو جاری کی جانے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق گذشتہ رات سکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی اور اورکرزئی ایجنسی کی سرحد پر خزانہ کنڈاؤ اور شیریں درہ کے مقام پر شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر حملہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شدید جھڑپ کے بعد شدت پسند اپنے نو ساتھیوں کی لاشیں موقعے پر چھوڑ کر فرار ہو گئے، جب کہ اس واقعے میں فائرنگ کے تبادلے میں سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

دو شدید زخمی شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

جمعے کی شام فوجی حکام نے شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی کی تھی جس میں انھوں نے 23 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم اب تازہ پریس ریلیز کے مطابق مرنے والے شدت پسندوں کی تعداد 39 ہو گئی ہے۔

پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی خبر کے مطابق اس حملے میں بڑی تعداد میں گولہ بارود کا ایک بڑا ذخیرہ بھی تباہ کر دیا گیا۔

بیان کے مطابق جمعے کی شام کو شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں ایک ہدف پر موثر اور ٹھیک فضائی کارروائی کی گئی جس میں بعض اہم شدت پسند کمانڈر بھی مارے گئے۔

اس کارروائی میں شدت پسندوں کی ہلاکت کے علاوہ زیر زمین گولہ بارود کا ذخیرہ اور سرنگوں کا نظام بھی تباہ ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کی 16 تاریخ کو پشاور میں ایک سکول پر حملے میں 134 بچوں سمیت ڈیڑھ سو افراد کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور اس دوران درجنوں جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اس سال کے وسط میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے متوازی خیبر ایجنسی کے کچھ علاقوں میں بھی خیبر ون کے نام سے فوجی آپریشن جاری ہے، جس میں حالیہ ہفتوں کے دوران تیزی آئی ہے۔

اسی بارے میں