پشاور پولیو مہم: ساڑھے سات لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption پشاور میں انسداد پولیو مہم کے حکام کے مطابق اس مہم کے لیے 4400 ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں انسداد پولیو مہم میں اتوار کے روز ساڑھے سات لاکھ بچوں کو اس بیماری سے بچاؤ کے قطرے دینے کا ہدف رکھا گیا تھا۔

پاکستان میں اس سال اب تک پولیو کے 295 مریض سامنے آئے ہیں جن میں 66 کا تعلق خیبر پختونخوا اور 173 کا تعلق قبائلی علاقوں سے تھا۔

پشاور کی 97 یونین کونسلز میں گھر گھر جا کر پولیو سے بچاؤ کے قطرے دینے کی ایک روزہ مہم مکمل کی گئی۔ اس مہم میں سات لاکھ 54 ہزار بچوں کو اس وائرس کے حملے سے بچاؤ کے قطرے دینے کا ہدف رکھا گیا تھا۔

پشاور میں انسداد پولیو مہم کے حکام کے مطابق اس مہم کے لیے 4400 ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ آج اتوار کے روز ویکسین کے قطرے پینے سے رہ جانے والے بچوں کو آئندہ دو سے تین روز تک یہ قطرے دیے جانے کی مہم جاری رہے گی۔

پشاور کے ان متعلقہ علاقوں میں جہاں بچوں کو قطرے دیے جانے تھے اس کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ اکثر علاقوں میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد تھی۔ ان علاقوں کے کوچوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس اہلکار تعینات تھے۔

گذشتہ ہفتے مکمل کی گئی مہم کے لیے بھی سات لاکھ 54 ہزار بچوں کو اس مہلک بیماری سے بچاؤکے قطرے دیے جانے کا ہدف رکپا گیا تھا۔

تاہم ذرائع کے مطابق اس مہم میں چھ لاکھ 72 ہزار بچوں کو اس ویکسین کے قطرے دیے گئے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ 15000 تک بچے موقع پر دستیاب نہیں تھے جبکہ 9000 والدین نے اپنے بچوں کو یہ قطرے دینے سے انکار کر دیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ انکاری بچوں کے والدین میں پہلے کی نسبت کمی آئی ہے۔ اس سے پہلے ایسی اطلاعات ہیں کہ انکاری والدین کی تعداد 12 ہزار سے 18 ہزار تک رہی تھی۔

اگر حکام کی جانب سے دیے گئے ہدف کو مد نظر رکھا جائے تو کُل 81 ہزار بچے قطرے لینے سے محروم رہے ہیں۔ ان میں انکاری والدین کتنے ہیں اور ان بچوں کی تعداد کتنی ہے جو موقع پر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس بیماری سے بچوؤ کے قطرے لینے سے رہ گئے تھے۔

اسی بارے میں