’بیانات کے برعکس مولانا عبدالعزیز شاملِ تفتیش ہونا چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption گذشتہ کچھ عرصے میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے جب مولانا عبدالعزیز کے ورانٹ جاری ہوئے ہیں

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے نمائندے پولیس سٹیشن آئے تھے اور انھوں نے یہ یقین دہانی کروائی کہ مولانا عبدالعزیز اس مقدمے میں شاملِ تفتیش ہوں گے اور قانون کے تحت جو بھی وضاحتیں درکار ہوں گی وہ دیں گے۔

یہ بات اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز عصمت اللہ جونیجو نے بی بی سی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہی۔

’مولانا عبدالعزیز نہ گرفتاری دیں گے اور نہ ہی ضمانت کرائیں گے‘

ان کا کہنا تھا ’ان کے نمائندوں نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ کہ وہ (مولانا عبدالعزیز) خود پولیس سٹیشن آکر اپنا بیان بھی ریکارڈ کروائیں گئے۔‘

عصمت اللہ جونیجو کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی کسی کے خلاف ایف آئی آر درج ہوتی ہے تو ملزم کو یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ 14 دن کے اندر متعلقہ تھانے میں پیش ہو کر الزامات کے بارے میں وضاحت پیش کرے۔

مولانا عبدالعزیز کی جانب سے گرفتاری نہ دینے کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ جو بیانات ذرائع ابلاغ میں آ رہے ہیں ان کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے۔

’بیانات کے برعکس وہ ضمانتی مچلکے حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ اس مقدمے کی تفتیش میں شامل ہو کر اپنی صفائی پیش کرنا چاہتے ہیں۔‘

عصمت اللہ جونیجو نے بتایا کہ قانون کے تحت کسی بھی ایف آر کی ابتدائی تفتیش کے لیے پولیس کے پاس چودہ دن کی مہلت ہوتی ہے اور پولیس کی کوشش ہوتی ہے کہ جلد از جلد اس کیس کو مکمل کریں۔

ایف آئی ار جھوٹی ہونے کے بیان پر ایس ایس پی آپریشن نے کہا’یہ قبل از وقت ہے کیونکہ اس بات کا فیصلہ تفتیش مکمل کرنے اور تمام فریقین کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعدہی کیا جا سکتا ہے۔‘

’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ ایک اہم مقدمہ ہے جس کی تفتیش صرف ایس ایچ او نہیں کر رہا بلکہ دیگر افسران بھی اس میں شامل ہیں اور مقدمے کا فیصلہ صرف میرٹ پر ہوگا۔‘

گذشتہ کچھ عرصے میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے جب مولانا عبدالعزیز کے ورانٹ جاری ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت یہ واضح کرنا چاہتی ہے جو بھی فرقہ ورایت اور دہشت گردی کی حمایت کرے گا اُس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

جب ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو سے پوچھا گیا کہ مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کے حوالے سے ان کا موقف تھا کہ ’ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا‘۔

اسی بارے میں