’مشرف سندھ حکومت کو غیرمستحکم کرنا چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’اگر فوج نے اس (مشرف) سے سیاست کرانی ہے تو وہ صاف کہہ دے کہ یہ ان کا نمائندہ ہے‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کچھ عناصر کے ساتھ مل کر سندھ حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل نے سابق صدر آصف علی زرداری کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ایسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

’اسٹیبلشمنٹ کی ناسمجھی سے جہاد ملک بھر میں پھیل گیا‘

بیان کے مطابق’ کئی ایسی وجوہات موجود ہیں جن کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور پارٹی کو یقین ہے کہ سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کچھ عناصر کے ساتھ مل کر سندھ حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔‘

بیان میں سیاسی جماعتوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ چند عناصر کی جانب سے سندھ حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں کا نوٹس لیں۔

سندھ میں حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بیان میں مزید کہا کہ’ پیپلزپارٹی ایک متحد سیاسی قوت ہے اور جو ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے موجودہ صوبائی حکومت کو گرانا چاہتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

اس بیان سے ایک دن پہلے سنیچر کو ملک کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی برسی کے موقعے پر ایک تقریر میں سابق صدر آصف علی زردای نے کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی ’شازشوں‘ سے باخبر ہے۔ ’ میں سونگھ رہا ہوں کہ بِلّا اپنے گھر میں بیٹھا ہوا سازشیں کر رہا ہے۔‘

سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’ایک طرف وہ ضمانت پر ہیں، دوسری جانب فوج ان کے ساتھ ہے اور تیسری جانب وہ سیاست بھی کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق فوجی صدر مشرف ان دنوں کراچی میں رہائش پذیر ہیں

’ایک کام ہونا چاہیے، یا فوج ان کے ساتھ نہ چلے یا وہ سیاست نہ کریں۔ اگر فوج نے اس سے سیاست کرانی ہے تو وہ صاف کہہ دے کہ یہ ان کا نمائندہ ہے، تاکہ ہمیں صاف پتہ لگ جائے کہ ہمارا مقابلہ کس قوت سے ہے۔

گذشتہ ہفتے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو کام کرنے سے روک دیا تھا۔

2008 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی تھی تاہم 2013 کے انتخابات میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن صوبہ سندھ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ متحدہ قومی موومنٹ صوبائی حکومت کا حصہ بنی تھی لیکن بعد میں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے ایم کیو ایم مخالف بیانات پر اس نے صوبائی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

اسی بارے میں