پشاور سے آگے مگر پیچھے پیچھے؟

Image caption اقوام متحدہ کے تقریبا 160 ملک یا تو سزائے موت کو ختم کرچکے ہیں یا پھر اس پر عمل نہیں کرتے

پاکستان میں پشاور سکول حملے کو ملک کا نائن الیون کہا جا رہا ہے۔ بے شک یہ ایک ہولناک حادثہ تھا اور خاص طور پر ایک ایسے ملک کے لیے جو نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ سے بری طرح متاثر ہوا۔ لیکن اگر اس نئے نائن الیون کا ردعمل بھی اسی شدت، جذبات اور انتہاؤں کے ساتھ ہو جیسا کہ 13 برس پہلے ہوا تھا تو کیا یہ تشویشناک نہ ہو گا؟

آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ دنیا کس جانب جا رہی ہے۔

18 دسمبر 2014 کو 117 ممالک کی ریکارڈ تعداد نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پانچویں قرارداد کی حمایت کی جس میں سزائے موت کے استعمال پر عالمی التوا کا کہا گیا ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ نے سزائے موت ختم کرنے کو ایک ضرورت قرار دیا تھا۔

سنہ 1945 میں جب اقوام متحدہ وجود میں آئی تو صرف آٹھ ممالک نے سزائے موت کو ختم کیا تھا۔ آج تقریباً 160 ملک یا تو سزائے موت کو ختم کرچکے ہیں یا پھر اس پر عمل نہیں کرتے۔

سزائے موت کے خلاف بین الاقوامی کمیشن کے صدر کہتے ہیں کہ نیویارک میں حالیہ ووٹ ایک اہم قدم ہے جو اس ’ظالمانہ، غیر انسانی اور ذلت آمیز سزا‘ کے خلاف بین الاقوامی برادری کی بڑھتی ہوئی آواز کا ترجمان ہے۔

لیکن پاکستان میں ان کے بیان کےصرف ایک دن قبل یعنی 17 دسمبر 2014 کو اسی ’ظالمانہ، غیر انسانی، اور ذلت آمیز سزا‘ پر عائد چھ سالہ پابندی ہٹا دی گئی اور یہ پشاور سکول حملے کے براہ راست جواب میں کیا گیا۔ وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ سزائے موت کی معطلی صرف دہشت گردی سے متعلق مقدموں کے حوالے سے اٹھائی گئی ہے۔

پاکستان کے اس فیصلے پر دنیا کا رد عمل غیر متوقع نہیں تھا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے اس کی مذمت کی۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے وزیر اعظم نواز شریف پر زور ڈالا کہ تمام مجرموں کی سزائے موت کو ختم کیا جائے اور سزائے موت کی معطلی کو پھر سے بحال کیا جائے۔ پاکستان میں یورپی یونین کے وفد اور ای یو مشن کے سربراہان نے بھی پاکستان کے اس قدم پر دکھ کا اظہار کیا۔

پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر لارس گنر ویگ مارک نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معطلی کو اٹھانا پاکستان کے لیے پیچھے کی جانب ایک قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنگین سزاؤں کے بارے میں ان کا موقف بہت واضح ہے۔ ’ہم یقین نہیں رکھتے کہ سزائے موت تشدد کی سطح کو کم یا سنگدل مجرموں یا دہشت گردوں کو باز رکھ سکتی ہے۔‘

لارس گنر نے کہا کہ یورپی یونین سزائے موت کی معطلی سے خوش تھی کیونکہ اس نے پاکستان کو یقیناً اپنے علاقے میں بہت سے ہمسایوں پر سبقت دلا دی تھی۔ شاید اسی لیے یورپی یونین کو امید تھی کہ پاکستان بھی نیویارک میں اقوام متحدہ کی حالیہ اسمبلی میں سزائے موت کو بطورِ سزا مسترد کرے گا۔

لیکن ایسا نہ ہوا۔ ایک ایسے وقت جب دنیا مستقل سزائے موت کی مخالفت کر رہی ہے پاکستان واضح طور پر اس رحجان کے خلاف جاتا نظر آ رہا ہے۔ اس ماحول میں دہشت گردی کے مقدموں کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ بھی ملک کی نسبتاً کمزور جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ انسانی حقوق کی ممتاز وکیل اور سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر نے فوجی عدالتوں کو ’سافٹ کُو (بغاوت)‘ کہا ہے۔

پشاورمیں جو کچھ ہوا اس کی سنگینی سے کسی کو انکار نہیں۔ سوال جوابی اقدامات پر ہے۔ پاکستان نے انسانی حقوق اور جمہوریت کی راہ میں اہم ترقی کی ہے لیکن اب جن اقدامات سے ہم ان دہشتگردوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں، کیا وہ ہمیں ان کے نظریے سے دور لے جا رہے ہیں یا ان کے قریب؟

کئی عالمی پیمانوں پر پاکستان پہلے ہی مشکلات میں ہے۔ جنسی مساوات، جدید دور کی غلامی، انسانی ترقی، انٹرنیٹ پرآزادی اظہار، صحافتی آزادی، عالمی دہشت گردی، بدعنوانی اور اس کے علاوہ کئی دوسرے محاذوں پر پاکستان کی کارکردگی قابل ستائش نہیں۔

ایسے میں کیا سزائے موت کی بحالی اور فوجی عدالتوں کا قیام پاکستانی ریاست کو مزید رجعت پسندی کی جانب نہیں دھکیلے گا؟

سزائے موت پر عالمی مخالفت کی بنیادی وجوہات کچھ یوں ہیں: بطور عبرت، اس کے آثار مشکوک ہیں، اس میں بے گناہوں کو ناحق پھانسی کا خطرہ ہے خاص طور پر پسماندہ لوگوں کے لیے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملک کے موجودہ نظامِ عدل کی خامیاں اس قدر سنگین ہیں کہ بہت سے مقدموں کا منصفانہ فیصلہ تقریباً ناممکن ہے۔

عاصمہ جہانگیر کے بقول یہ کہنا انتہائی مشکل ہے کہ سزائے موت پانے والا کوئی بھی شخص دہشت گرد ہے یا نہیں کیونکہ ان مقدمات میں بین الاقوامی قانونی پیمانوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا۔

غیر سرکاری تنظیم رپرائیو کے شہزاد اکبر کہتے ہیں کہ انھیں قانونی خامیاں کی وجہ سے سنہ 2008 میں سزائے موت پر پابندی لگائی گئی تھی۔

پاکستان میں اس وقت دہشتگردی سمیت 27 جرائم میں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ چھ سالہ پابندی کے باوجود سزائے موت مستقل سنائی جاتی رہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں اس وقت 8,526 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے اور اتنی بڑی تعداد آپ کو کسی اور ملک میں نہیں ملے گی۔

قانونی مشاورت کی تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان اور برطانوی تنظیم رپرائیو کی اس مہینے جاری ہونے والی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق سزائے موت پانے والے ان 8,000 سے زیادہ قیدیوں میں سے تقریباً 800 دہشت گردی کے الزام میں بند ہیں جن میں سے 88 فیصد کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔

اس کے علاوہ اس وقت پاکستان میں دہشت گردی کے 17 ہزار مقدمے زیر التوا ہیں جن میں زیادہ تر کا تعلق دہشت گردی سے نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ موجودہ قانون میں دہشت گردی کی مبہم، وسیع اورغیر واضح تعریف ہے۔ شہزاد اکبر کے مطابق یہ قانون تقریبا ہر چیز پر لاگو ہوسکتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر کو خدشہ ہے کہ سزائے موت کی بحالی نے پاکستان کو ایک پھسلن کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس نے پچھلی کئی دہائیوں کی جدوجہد کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ان کے بقول ’سنگین سزاؤں اور فوجی عدالتوں کے آغاز کے ساتھ ہی ہم نے ایک عدلیہ، سول سوسائٹی اور پارلیمنٹ کے لیے جوبھی جدوجہد کی تھی وہ برباد ہوجائے گی۔ ہم دوبارہ سےفوج کی کٹھ پتلیاں بن جائیں گے۔‘

شہزاد اکبر حکومت کے اس ردعمل کو زمانۂ قدیم کی انتقامی سوچ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ’کچھ خطرناک لوگوں نے ہمارے بچوں کو مار دیا، تو کیا ہم بھی جس کو مار سکتے ہیں مارنا شروع کردیں۔‘ انھیں خوف ہے کہ قوم نے اپنے مجموعی غم و غصے کا آسان نشانہ سزائے موت کے قیدیوں کی صورت میں ڈھونڈ لیا ہے۔

13 سال قبل نائن الیون نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ شروع کی جس کا نتیجہ شاید دہشت گردی کو ختم کرنے کے بجائے اس کے مزید پھیلاؤ کی صورت میں نکلا۔ آج ایک مشتعل قوم کو ٹھنڈا کرنے کے لیے پاکستان بدلے کی سیاست کا سہارا لے رہا ہے جس میں بدلہ تو شاید اسے مل پائے یا نہیں لیکن برسوں کی کاوشوں سے پیدا ہونے والے انسانی حقوق کے شعور کو ایک کاری ضرب ضرور پہنچے گی۔

اسی بارے میں