پرویز مشرف پر حملے کے ایک اور مجرم کو پھانسی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزارتِ داخلہ نے وزیرِ اعظم پاکستان کے احکامات کی روشنی میں 17 مجرموں کی فہرست تیار کی ہے جنھیں ابتدائی مرحلے میں پھانسی دی جائے گی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی سنٹرل جیل میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملے میں ملوث ایک مجرم نیاز محمد کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

مجرم نیاز محمد پاکستانی فضائیہ میں جونیئر ٹیکنیشن تھے اور انھیں دسمبر 2003 میں راولپنڈی کے جھنڈا چیچی پل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش پر فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کی سزائے موت پر عمل درآمد بدھ کی صبح چھ بج کر 40 منٹ پر کیا گیا اور سزائے موت دینے کے لیے انھیں ہری پور کی جیل سے پشاور منتقل کیا گیا تھا۔

جیل کے حکام کے مطابق منگل کی شام ان کی اپنے اہل خانہ کی آخری ملاقات بھی کروا دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ نیاز محمد کو چودہ دسمبر 2003 کو ہونے والے جس قاتلانہ حملے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی، اسی مقدمے میں ان کے ساتھ فوجی عدالت نے ایک سویلین مشتاق احمد کے علاوہ فضائیہ کے تین دیگر اہلکاروں کو بھی سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔

ان ملزمان میں چیف ٹیکنیشن خالد محمود، کارپورل ٹیکنیشن نوازش علی کے علاوہ جونیئر ٹیکنیشن عدنان رشید بھی شامل تھے جنھیں اپریل 2012 میں طالبان نے بنوں کی جیل پر حملے کے دوران رہا کروا لیا تھا۔

اسی مقدمے کے ایک مجرم فوجی اہلکار اسلام الدین شیخ عرف عبدالسلام صدیقی کو 20 اگست سنہ 2005 کو ملتان کی سنٹرل جیل میں پھانسی دی جا چکی ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے افراد کی سزا پر عملدرآمد کا آغاز وزیرِ اعظم پاکستان کی ہدایت پر حال ہی میں ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پھانسیوں پر شدت پسندوں کے ممکنہ ردعمل کے تناظر میں اہم جیلوں کی سکیورٹی بھی فوج کے حوالے کی گئی ہے

اس فیصلے پر عالمی برادری کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے اور جہاں امریکہ نے اسے پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے وہیں یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے پھانسیوں پر عائد پابندی بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نواز شریف نے دہشت گردوں کی سزائے موت پر عملدرآمد کی ہدایات پشاور میں طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 134 بچوں سمیت 143 افراد کی ہلاکت کے بعد جاری کی تھیں۔

وزارتِ داخلہ نے ان احکامات کی روشنی میں 17 مجرموں کی فہرست تیار کی تھی جنھیں ابتدائی مرحلے میں پھانسی دی جائے گی اور نیاز محمد اس سلسلے میں تختۂ دار پر لٹکائے جانے والے ساتویں مجرم ہیں۔

پاکستان میں ان پھانسیوں پر شدت پسندوں کے ممکنہ ردعمل کے تناظر میں ملک کی اہم جیلوں کی سکیورٹی بھی فوج کے حوالے کی گئی ہے۔

ان پھانسیوں کے لیے جیل کے قواعد و ضوابط میں ترامیم بھی کی گئی ہیں۔

پہلے پھانسی کا عمل صرف فجر سے قبل منگل، بدھ اور جمعرات کو ہی سرانجام دیا جاتا تھا تاہم نئے قواعد کے تحت اب پھانسی کے لیے مقررہ وقت کے ساتھ ساتھ ہفتے میں مخصوص دنوں کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں