شمالی وزیرستان:’فضائی حملوں میں 23 شدت پسند ہلاک‘

Image caption شوال میں 26 دسمبر کو دو امریکی ڈرون حملے بھی ہوئے تھے

پاکستان کے فوجی حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی کے نتیجے میں 23 شدت پسند ہلاک اور ان کے چار ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے تحریری بیان میں بتایا گیا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائی کی گئی۔

اس سے قبل 26 دسمبر کو شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں بھی ایک فضائی کارروائی میں اہم شدت پسند کمانڈر سمیت 23 شدت پسندوں کی ہلاکت کے علاوہ زیر زمین گولہ بارود کا ذخیرہ اور سرنگوں کا نظام بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

پاکستانی فوج نے 15 جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

آپریشن کے بعد شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے بھی ہو چکے ہیں اور گذشتہ جمعے کو شوال میں دو ڈرون حملوں میں تین عیر ملکیوں سمیت آٹھ مبینہ شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔

16 دسمبر کو پشاور میں سکول پر طالبان کے حملے کے بعد فوج نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے اس کے علاوہ شمالی وزیرستان میں بھی کارروائیاں کی جاری ہیں۔

گذشتہ ماہ حکام کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران حقانی نیٹ ورک اور ایسٹ ترکستان موومنٹ کے عناصر سے اس علاقے کو صاف کر دیا گیا ہے۔

سکول پر حملے کے بعد حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 20 نکات پر مشتمل قومی ایکشن پلان تیار کیا ہے جس میں قبائلی علاقوں کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام بھی شامل ہے۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہونے کے بعد لاکھوں افراد عارضی کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں اور ان کی جانب سے اپنے علاقوں میں جلد از جلد واپس جانے کے حوالے سے بے چینی پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں