زخمی بچوں کی روح بھی گھائل ہوگئی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سانحے کو اپنی آنکھ سے دیکھنے والے بچوں کا علاج کرنے کے لیے تربیت یافتہ عملے کی شدید کمی ہے

پشاور کے آرمی پبلک سکول میں طالبان کے حملے کا نشانہ بننے والے بچے ہسپتال سے آج نہیں تو کل فارغ ہو جائیں گے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ یہ اندوہناک واقعہ کب تک ان کے ذہن پر سوار رہے گا اور ان کے زخم کبھی مندمل ہو پائیں گے یا نہیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ پشاور کے یہ بچے یا ان کے والدین مردوں کو مضبوط اور سخت جان سمجھنے والے معاشرے میں اپنے بچوں کی کاؤنسلنگ کروانا پسند کریں گے؟

اس حملے میں 134 بچوں کی جانیں گئیں اور ان کے والدین کے دکھ کا اندازہ لگانا ممکن نہیں لیکن حملے میں زخمی ہونے والے بچوں کے لیے بھی آگے کا سفر انتہائی کٹھن ہے۔

بہت سے بچے اب بھی لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں جہاں کے عملے نے شدت پسندی کے خلاف صفِ اول پر موجود اس شہر میں کئی ایسے سانحات کا سامنا کیا ہے۔

ہسپتال میں ایک بہترین ٹراما سینٹر تو ہے مگر اس قسم کے سانحے کو اپنی آنکھ سے دیکھنے والے بچوں کا علاج کرنے کے لیے اس کے پاس تربیت یافتہ عملے کی شدید کمی ہے۔

ہسپتال کا عملہ اعتراف کرتا ہے کہ بچوں کے زخم صرف ان کی جلد پر ہی نہیں بلکہ ان کی روح بھی گھائل ہوگئی ہے۔

ایمرجنسی وارڈ میں موجود ایک ڈاکٹر نے کہا ’بچے جب حملے کے بعد یہاں لائے گئے تو خاموش تھے۔ یہاں جب بھی پہلے کبھی ایسے واقعات پیش آئے تو شور کے نتیجے میں قیامت کا سماں ہوتا ہے مگر ان بچوں نے ایسا کچھ نہیں کیا یہ بڑوں سے زیادہ بہادر بچے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شہر کے تعلیمی ادارے آج کل موسمِ سرما کی تعطیلات کی وجہ سے بند ہیں اور ان کے دوبارہ کھلنے کا دارومدار سکیورٹی کی صورتحال پر ہے

اور پھر انہیں شاید کچھ خیال آیا اور آہ بھر کر بولے ’یا شاید وہ صدمے سے دوچار تھے۔‘

پندرہ سالہ علی نواز بھی ایسا ہی ایک طالبعلم ہے جس کی ٹانگوں اور بازوؤں پر پٹیاں بندھی ہیں۔

وہ اس کی عیادت کے لیے آنے والے افراد ہوں یا انٹرویو کے لیے آنے والے صحافی سب کا مسکراہٹ سے استقبال کرتا ہے مگر یہ مسکراہٹ اس کے رشتہ داروں کے چہروں پر موجود ہیں جنہیں پتا ہے کہ علی نواز کا بھائی اس حادثے میں بچ نہیں پایا مگر علی کو یہ بات نہیں بتائی گئی۔

علی کی خالہ نے میرا بازو پکڑ کر مجھے اپنے قریب کرتے ہوئے کہا ’کیا آپ اسے بتاؤ گی کہ اس کا بھائی شہید ہو چکا ہے۔ ہمیں تو نہیں پتا کہ ہم اسے کیسے بتائیں۔ ہمیں تو یہ بھی نہیں پتا کہ ہم اس سے کیسے بات کریں۔‘

آرمی پبلک کے ہی ایک اور طالبعلم 13 سالہ انس ممتاز ہسپتال میں علاج کے عمل سے گزر کر واپس اپنے گھر پہنچ چکے ہیں لیکن رات کو اسے ڈراؤنے خواب ستاتے ہیں۔

اس حملے میں وہ خود تو زخمی ہوئے مگر اُنہوں نے اپنی والدہ کو جو سکول میں استانی تھیں مرتے دیکھا۔

انس کے والد ڈاکٹر نعیم ممتاز ایک سرجن ہیں اور وہ دوسرے بچوں کی جان بچانے میں مصروف تھے کہ اُن کے پاس اُن کا اپنا بیٹا لایا گیا اور اس کے ساتھ ہی یہ اطلاع بھی کہ اُن کی اہلیہ اسی حملے میں جان سے گئیں۔

وہ ابھی اپنے صدمے سے نکل کر انے بیٹے سے اس بارے میں بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انس بہت زیادہ خوفزدہ ہے اور اسے ڈر ہے کہ شدت پسند پھر لوٹ آئیں گے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’مجھے گھر سے نکلتے ہوئے خوف آتا ہے ابھی سے ہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ شدت پسند واپس لوٹ آئیں گے۔ مجھے نہیں پتا کہ یہ افواہ ہے یا سچ کہ پشاور میں چار سو دہشت گرد داخل ہو چکے ہیں۔‘

پشاور سے تعلق رکھنے والے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر افتخار حسین کا کہنا ہے کہ ان بچوں میں ’پوسٹ ٹرومیٹک سٹریس ڈس آرڈر‘ یعنی پی ٹی ایس ڈی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مختصر مدت کی کاؤنسلنگ ان بچوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے تاہم انھوں نے متنبہ کیا کہ طویل عرصے تک کاؤنسلنگ کے بغیر رہنے سے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔

’اس کا الٹ نتیجہ سامنے آ سکتا ہے بچوں کی نشوونما پر اور اُن کی مستقبل کی کامیابیوں پر۔ انہیں غصہ محسوس ہو سکتا ہے اور یہ اضطراب بعد میں پرتشدد رویے میں بدل سکتا ہے اور بعض کیسز میں اس کا نتیجہ بدلے لینے کی خواہش میں بھی نظر آ سکتا ہے۔‘

پاکستان میں فوج کی جانب سے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کا عمل جب سے تیز ہوا ہے تب سے پشاور میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے جس کی وجہ ان حملوں کے ردعمل میں حملوں کا خوف ہے۔

شہر کے تعلیمی ادارے آج کل موسمِ سرما کی تعطیلات کی وجہ سے بند ہیں اور ان کے دوبارہ کھلنے کا دارومدار سکیورٹی کی صورتحال پر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پشاور کے ان بچوں کے لیے آنے والے سال کٹھن ہیں

شیر عالم شنواری ایک مقامی استاد ہیں اور انھوں نے بچوں کو اپنے چھوٹے سے گھر میں پڑھانا شروع کیا ہے تاکہ اُن کی پڑھائی کا حرج نہ ہو مگر ان تعلیمی اسباق سے زیادہ ان بچوں کو کاؤنسلنگ کی ضرورت ہے۔

شیر عالم کے مطابق ’اب بچے سکول کو ایک ڈر اور خوف کی جگہ کے طور پر شناخت کرتے ہیں۔ ان کی سرگرمیاں اب بہت محدود ہیں اگر وہ سکول جاتے بھی ہیں انہیں صبح کی اسمبلی میں بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔‘

ان کے مطابق ’بچوں کا اعتماد بری طرح مجروح ہو چکا ہے اور یہ اُن کے مستقبل میں ایک بڑی رکاوٹ ہو گا۔‘

پشاور کے ان بچوں کے لیے آنے والے سال کٹھن ہیں اور انہیں ایک ایسے معاشرے میں تربیت مل رہی ہے جس پر اب بھی قبائلی معاشرتی رسوم و رواج کے سائے کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں اور یہاں خوف اور احساسات خصوصاً ذہنی خوف اور ڈر کے بارے میں بات کرنے کو صحیح نہیں سمجھا جاتا۔

اس شہر کو اس ایک حملے کی کتنی بڑی قیمت چکانی پڑے گی یہ اس وقت واضح ہو گا جب ممکنہ طور پر ایک خوفزدہ اور صدمے سے دوچار بچوں کی نسل ڈرپوک اور خوفزدہ نوجوانوں میں تبدیل ہو جائےگی۔

اسی بارے میں