’بلوچستان سے گذشتہ سال 164 نہیں بلکہ 455 لاشیں ملیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان کے طول و عرض سے تشدد زدہ لاشوں کی بر آمدگی کا سلسلہ سات برس قبل شروع ہوا تھا

پاکستان میں لاپتہ بلوچ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز نے بلوچستان کی حکومت کی جانب سے 2014 میں صوبے سے 164 لاشوں کی برآمدگی کے اعدادوشمار کو مسترد کر دیا ہے۔

تنظیم کے سربراہ نصراللہ بلوچ نے جمعرات کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ برس کے دوران کل 435 بلوچ لاپتہ ہوئے جبکہ 455 افراد کی تشددزدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تشدد زدہ لاشوں میں توتک کے علاقے سے مجموعی طور پر 10 سے زائد اجتماعی قبروں سے ملنے والی لاشیں بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان 455 میں سے 107 افراد کی شناخت ہو سکی جو کہ سب بلوچ تھے۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ماضی کے برعکس اب لاشوں کی شناخت چھپانے کی زیادہ کوشش کی جانے لگی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرنے والوں کی جیبوں میں پرچیاں ہوتی تھیں اور وہ زیادہ مسخ نہیں ہوتی تھیں لیکن ’اب مارے جانے والے افراد کے چہروں کو نہ صرف مسخ کیا جاتا ہے بلکہ ان کی شناخت کو مشکل بنانے کے لیے ان پر تیزاب اور چونا بھی ڈالا جاتا ہے جس کی وجہ سے لاپتہ افراد کے لواحقین شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔‘

انہوں نے مطالبہ کہ جو تشدد زدہ لاشیں بر آمد ہوتی ہیں ان کو فوری طور پر دفن نہ کیا جائے بلکہ سول ہسپتال کوئٹہ میں ایک نیا مردہ خانہ بناکر ان کو کم از کم ایک ماہ تک رکھا جائے۔

ان کا کہنا تھا تشدد زدہ لاشوں کی شناخت کے لیے انھیں علیحدہ قبرستان میں دفن کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرایا جائے۔

موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آنے سے قبل آج پاکستان میں برسر اقتدار جماعتوں کا دعویٰ تھا کہ وہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کریں گے اور ان کے اداروں کے خلاف کاروائی کریں گے جو تشدد زدہ لاشیں پھینکنے کے ذمہ دار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس دعوے کے برعکس موجودہ حکمرانوں نے لاشیں پھینکنے کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی بجائے ان کے غیر قانونی اقدامات کو تحفظ فراہم کرنا شروع کر دیا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں بلوچستان کے محکمۂ داخلہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 2014 کے دوران بلوچستان سے مجموعی طور پر 164 لاشیں ملیں جن میں سے 41 ناقابلِ شناخت تھیں۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بقیہ لاشوں میں سے 71 بلوچوں ،35 پشتونوں اور 19 دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھیں۔

بلوچستان کے طول و عرض سے تشدد زدہ لاشوں کی بر آمدگی کا سلسلہ 2008 شروع ہوا تھا تاہم ایسے واقعات کے مقدمات کے اندراج کا سلسلہ 2010 سے سپریم کورٹ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔

اسی بارے میں