’آرمی ایکٹ میں تبدیلی کر کے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خورشید شاہ نے اپنے بیان میں دہشت گردوں اور ان کے معاونین کو سزائیں دینے کے لیے ملک میں سخت قوانین اور خصوصی عدالتوں کے قیام پر زور دیا

پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے تجویز دی ہے کہ پارلیمینٹ کے ذریعے آرمی ایکٹ میں تبدیلی کر کے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں۔

اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے درمیان دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں کے لیے قانونی طریقہ کار پر تاحال اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کا آغاز ایجنڈے سے ہٹ کر پشاور میں آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کے حملے پر بحث سے ہوا۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اپنے بیان میں دہشت گردوں اور ان کے معاونین کو سزائیں دینے کے لیے ملک میں سخت قوانین اور خصوصی عدالتوں کے قیام پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام فریقین کو اپنے اختلافات سے قطع نظر ملکی مفاد میں فیصلے کرنے چاہیے۔

خصوصی عدالتوں کے قیام کے لیے اپنی تجاویز میں سید خورشید شاہ نے کہا کہ ’پارليمنٹ آسانی سے 1952 کے آرمی ايکٹ ميں ترميم کر کے اس ميں خصوصی عدالتوں کا اضافہ کرسکتی ہے ۔‘

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان عدالتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ميں بے مثال قربانياں دی ہيں جو رائيگاں نہیں جانی چاہیئں اور اس کے لیے تمام قوتوں کو متحد ہونا ہوگا۔

اجلاس سے خطاب کرنے والے دیگر رہنماؤں میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالرحيم مندوخيل، پیپلز پارٹی کے رضا حیات ہراج اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے محمد جمال الدين شامل تھے۔

حزب اختلاف کی بعض جماعتوں نے پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں اضافے پر احتجاجاً ایوان سے علامتی طور پر واک آوٹ بھی کیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس جمعے کی سہ پہر چار بجے دوبارہ شروع ہوگا جبکہ وزیراعظم نواز شریف نے جمعے کو ایک بار پھر پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان کو مدعو کرلیا ہے۔

16 دسمبر کے پشاور سانحے کے بعد وزیراعظم کی جانب سے سیاسی قیادت سے مشاورت کے لیے بلوائی جانے والی یہ تیسری کل جماعتی کانفرنس ہوگی۔

اسی بارے میں