’دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کوئی غير جانبدار نہیں رہ سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption ’2015 دہشت گردی کے کے حلاف جاری جنگ میں کامیابی کا سال ہوگا‘

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں سفارتکاری٬ ذہانت٬ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور فوجی طاقت سمیت ہر طريقہ استعمال کياجائے گا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک اعلی سطحی میں وزيراعظم نوازشريف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی بھی غير جانبدار نہيں رہ سکتا۔

’پوری قوم اور سياسی قيادت دہشتگردوں اور ان کے مددگاروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کے لیےمتحد ہے۔‘

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعظم کی زیرصدارت اجلاس میں سول اور فوجی قیادت نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔

اجلاس میں وفاقی وزرا کے علاوہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ رضوان اختر بھی شریک ہوئے۔

اس موقعے پر اپنے خطاب میں وزيراعظم نے کہا کہ ایکشن پلان پر عملدرآمد حکومت کی اولين ترجيح ہے درست وقت پر موثر اقدامات سے کاميابی حاصل کی جائے گی۔

’ہماری جنگ نفرت٬ خوف اور دہشتگردی کے خلاف ہے اور اس میں کوئی بھی غير جانبدار نہيں رہ سکتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ہمارا لائحہ عمل سنگين دہشتگردوں کے اہداف کی شناخت کر کے ان کو تباہ کرنا اور شہريوں کی حفاظت کرنا ہے اور دہشت گردوں سے خوف زدہ نہیں ہوں گے اور دہشت گردوں کو ملک میں کہیں بھی چھپنے نہیں دیا جائےگا۔

نوازشريف نے کہا کہ دہشت گردوں سے پاک کرنا ان کا مشن ہے اور اس جنگ کو دہشتگردوں کے ٹھکانوں تک لے جایا جائےگا۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان اور اپنے بچوں کے تحفظ کيلئے ہم مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے و الے اداروں کی مدد کريں گے۔

’دہشتگردوں کے خلاف جنگ سفارتکاری ٬ ذہانت ٬ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوجی طاقت کے ذريعے لڑيں گے اور اس کے لیے ہر طريقہ استعمال کياجائے گا۔‘

اپنے خطاب میں میاں نواز شریف نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ 2015 دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے لیے کامیابی کا سال ہوگا اور عوام اطمینان رکھیں ان کی قیادت جاگ رہی ہے۔

تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکریٹری داخلہ نے شرکا کو آپریشن ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ بھی دی۔

اس سے قبل وزیراعظم نے فوجی عدالتوں کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے قانونی ماہرین سے ملاقات بھی کی تاہم سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر چوہدری اعتزاز احسن کے مطابق فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے مجوزہ قانون پر تاحال کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

یاد رہے کہ حکومت آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں قائم کرنا چاہتی ہے تاہم اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ اس مقصد کے لیے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔

ادھر وزیراعظم نے جمعے کو کُل جماعتی کانفرنس طلب کر لی ہے۔ سانحہ پشاور کے بعد ایک ماہ کے دوران یہ تیسری کُل جماعتی کانفرنس ہوگی۔

اسی بارے میں