فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئین میں ترمیم پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption وزیراعظم پاکستان نے اپنے حالیہ بیانات میں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ آئین میں ترمیم کا بل سنیچر کو ہی قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔

اسلام آباد میں جمعے کو منعقدہ اجلاس کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق تیار کیے گئے مسودے پر اب بحث کی کوئی گنجائش نہیں جبکہ بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالتوں کا قیام فوج کی خواہش نہیں بلکہ یہ غیر معمولی حالات کی ضرورت ہیں۔

’امید ہے سیاسی اتفاقِ رائے کو چھوٹے معاملات میں ضائع نہیں کیا جائے گا‘

تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والی کل جماعتی کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے بلائے جانے والے اجلاس میں مجوزہ قانونی اقدمات کی حمایت کی گئی جن میں مقدمات کی تیز سماعت کی خاطر آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے اس کا دائرۂ کار بڑھانے اور دو برس کی حتمی مدت کے لیے اسے آئینی تحفظ دینا بھی شامل ہیں۔

کانفرنس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی کے تحت پاکستان کے مجرموں، بچوں اور معصوم شہریوں کے قاتلوں، مسلح افواج اور سلامتی کے اداروں کے خون کے ذمہ داروں کا ٹرائل چونکہ عام عدالتوں میں ممکن نہیں اس لیے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام پر اتفاق ہوا ہے۔

’ان خصوصی عدالتوں کو تحفظ دینے کے لیے آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت تھی اور آج ملک کی سیاسی قیادت نے متفقہ طور پر دونوں فیصلوں کی توثیق کی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’سنیچر کو قومی اسمبلی میں اس آئینی ترمیم کا بل پیش کر دیا جائے گا اور پیر کو اس کی منظوری کا عمل شروع ہو گا جبکہ منگل کو اسے سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا اور ملک کی تمام سیاسی قیادت نے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا ہے۔‘

وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ کانفرنس میں اہم وفاقی وزرا کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ، ایم کیو ایم کی جانب سے فاروق ستار، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان ، شیریں مزاری اور شاہ محمود قریشی نے شرکت کی۔اس کے علاوہ اجلاس میں ملک کی عسکری قیادت اور فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ بھی شریک ہوئے۔

کانفرنس کی ابتدا میں اپنے خطاب میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پوری قوم کی نگاہیں اس اجلاس پر مرکوز ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے فوجی عدالتوں کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ’مسودے پر ابہام اب نہیں ہونا چاہیے، دو سال کے لیے ہم نے اس کام کو کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ اس کی مدت دو سال ہو گی اور اس کے نتائج جب سامنے آئیں گے تو یقیناً میں سمجھتا ہوں کہ نہ صرف آپ خوش ہوں گے بلکہ پوری قوم سکھ کا سانس لےگی، اس کی ’سن سیٹ کلاز‘ دو سال ہوگی۔‘

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ گذشتہ 15 روز میں اس مسودے پر سیاسی قیادت، متعلقہ کمیٹیوں اور سیاسی جماعتوں کے ان کے قانونی ماہرین نے کافی بحث کی ہے۔

’وقت آگیا ہے کہ اب اس پر حتمی فیصلہ ہو جائے تاکہ اس بل کو اب پارلیمان میں لے چلیں، میرا خیال ہے کہ وہاں نہ تو بحث کی گنجائش ہے اور نہ بحث ہونی چاہیے۔‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان پر سیاسی قیادت کے علاوہ فوجی حکام نے بھی کام کیا ہے جس پر جمعرات کے اجلاس میں مشاورت بھی ہوئی۔

’جب آج آغاز کیا جا رہا ہے تو میرے خیال سے ہمیں اس پر متفق ہونا پڑے گا۔‘ وزیراعظم کے خطاب کے دوران ہی آئینی مسودہ سیاسی رہنماؤں میں تقسیم کیا گیا۔

اجلاس میں شریک بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل نے کہا ہے کہ خصوصی عدالتوں کا قیام فوج کی خواہش نہیں لیکن یہ غیر معمولی حالات کی ضرورت ہیں۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے فوج کے سربراہ کا بیان ٹوئٹر پر جاری کرتے ہوئے کہا کہ’حالات معمول پر آنے کے ساتھ ہی نظام (عدالتی نظام ) واپس اپنی اصل حالت میں آجائے گا۔

آرمی چیف نے مزید کہا کہ پہلی کل جماعتی کانفرنس میں ہونے والے فیصلوں پر قائم رہنا ہوگا اور ہمیں سخت فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج کے فیصلے ہماری قوم کی قسمت کا فیصلہ کریں گے اور ہمیں ان پر عملدرآمد پر توجہ مرکوز رکھنی ہوگی۔

آرمی چیف جنرل راحیل نے کہا کہ ’پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف ایک نازک مرحلے میں ہے۔ ہم ضرور جیتیں گے، بطور ریاست اور معاشرے کے ہار کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان میں مختلف سیاسی و قانونی ماہرین ملک میں سول عدالتوں کی موجودگی میں متوازی فوجی عدالتوں کے قیام پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔

اس کانفرنس سے ایک دن پہلے ہی آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں منعقد ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس میں اس امید کا اظہار کیا گیا تھا کہ ملک کی سیاسی قیادت وسیع پیمانے پر ہونے والے سیاسی اتفاق رائے کو چھوٹے معاملات کی وجہ سے ضائع نہیں کرے گی۔

اسی بارے میں