قومی ایکشن پلان پر دوسری کل جماعتی کانفرنس

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption فوجی عدالتوں کی تشکیل کا قانونی طریقۂ کار وہ معاملہ ہے جس پر تاحال حکومت اور حزبِ اختلاف میں اتفاقِ رائے نہیں پایا جاتا

پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی میں اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس جاری ہے جس میں دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام سمیت اہم معاملات پر سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

یہ دس دن میں دوسرا موقع ہے کہ پاکستان کی پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے رہنما انسداد دہشتگردی کے لیے قومی لائحہ عمل پر بات چیت کے لیے جمع ہیں۔

’امید ہے سیاسی اتفاق رائے کو چھوٹے معاملات میں ضائع نہیں کیا جائے گا‘

وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والی اِس کانفرنس میں اہم وفاقی وزرا کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ، ایم کیو ایم کی جانب سے فاروق ستار، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان ، شیریں مزاری اور شاہ محمود قریشی شرکت کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ اجلاس میں ملک کی عسکری قیادت اور فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ بھی شرکت کر رہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما طارق عظیم نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ کُل جماعتی کانفرنس میں فوجی عدالتوں کے قیام کا معاملہ صرف ایک نکتہ ہے۔ اس کے علاوہ مدرسوں میں اصلاحات، فنڈنگ ، اقلیتیوں کو ہراساں کرنا یا نفرت انگیز تقاریر جیسی بہت ساری چیزیں ہیں جن پر وزیر اعظم نے خصوصی کمیٹیاں بنائی تھیں اور اِنہی کے بارے میں وہ تمام جماعتوں کو آگاہ کریں گے۔‘

دہشت گردی کے مقدمات کی جلد سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کی تشکیل کا قانونی طریقۂ کار وہ معاملہ ہے جس پر تاحال حکومت اور حزبِ اختلاف میں اتفاقِ رائے نہیں پایا جاتا۔

حکومت آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں قائم کرنا چاہتی ہے تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ پارلیمان کے ذریعے آرمی ایکٹ میں تبدیلی کر کے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں۔

ملٹری کورٹس کے قیام پر اختلافات سے متعلق خبروں پر طارق عظیم کا کہنا تھا کہ ملک کی دیگر دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کہہ چکے ہیں کہ وہ فوجی عدالتوں کے قیام پر متفق ہیں تاہم طریقۂ کار پر فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن اور پاکستان تحریک انصاف کے حامد خان کے بیانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’چونکہ یہ دونوں شخصیات وکیل ہیں اور انہوں نے جو کہا وہ ان کی ذاتی رائے تھی، جماعت کا موقف نہیں۔‘

پاکستان کے وزیرِ اعظم اپنے حالیہ بیانات میں فوجی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ اگر سخت ترین اقدامات کر کے دہشت گردی کو اب نہ روکا گیا تو کل شاید حکومت اسے روکنے کے قابل نہ رہے۔

جمعرات کو بھی انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی بھی غير جانبدار نہيں رہ سکتا اور اس جنگ میں سفارتکاری٬ ذہانت٬ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور فوجی طاقت سمیت ہر طريقہ استعمال کياجائے گا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک رہنما سینیٹر مشاہد اللہ کا خیال ہے کہ ’تمام پارلیمانی جماعتوں کے درمیان بنیادی بات پر اتفاق ہے اور چھوٹی موٹی چیزوں کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔‘

انھیں امید ہے کہ ایک آدھ دن میں حکومت اِس بِل کو ایوان میں پیش کرنے کی پوزیشن میں ہوگی اور دونوں ایوانوں سے اس مسودے کو منظور کرا لیا جائےگا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

وہ کہتے ہیں کہ ’ کوئی نہیں چاہتا کہ ملٹری کورٹس قائم کی جائیں لیکن جو مخصوص حالات ہیں اُس میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا کہ یہ کام کیا جائے۔‘

ان کا موقف ہے کہ ’ایسے ہی اقدامات دیگر ممالک میں بھی کیے گئے ہیں جو پاکستان سے کم دہشت گردی کا نشانہ بنے جیسے کہ امریکہ میں گوانتاناموبے کا قیام اور اسی طرح کے اقدامات برطانیہ اور انڈیا نے بھی کیے۔‘

پاکستان میں مختلف سیاسی و قانونی ماہرین ملک میں سول عدالتوں کی موجودگی میں متوازی فوجی عدالتوں کے قیام پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔

اِس بارے میں سوال کے جواب میں مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ ’یہ درست ہے کہ عدالتوں میں اصلاحات ہونی چاہییں، عدالتوں کی تعداد بڑھانی چاہیے، ان کو زیادہ سے زیادہ وسائل دینے چاہییں لیکن آج جس دہشت گردی کے عفریت سے ہمیں نمٹنا ہے اُس کے لیے ہماری ذیلی عدالتیں تو بالکل تیار نہیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ جب انصاف دینے والا ہی خوفزدہ ہو تو آپ اس سے خاص توقع نہیں رکھ سکتے: ’ایسا بھی ہوا کہ جج نے فیصلہ دیا اور پھر خوفزدہ ہو کر اپنے بال بچوں سمیت ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس نظام کو فوری طور پر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا اور ابھی ہمیں دہشت گردی کا فوری چیلنج درپیش ہے۔‘

دوسری جانب تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کُل جماعتی کانفرنس سے ایک روز پہلے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بیانکا سیاسی جماعتوں پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے جس میں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ملک کی سیاسی قیادت وسیع پیمانے پر ہونے والے سیاسی اتفاق رائے کو چھوٹے معاملات کی وجہ سے ضائع نہیں کرے گی۔

اسی بارے میں